’مشرف نے ادارے تباہ کر دیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے حالیہ دورہ یورپ کے دوران ان پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس شخص نے محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے عدلیہ اور دیگر اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔‘ سپریم کورٹ کے وکیل اطہر من اللہ نے بدھ کے روز اسلام آباد بار میں ایک پریس کانفرنس کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دستخطوں سے جاری ہونے والے خط کی کاپیاں اخبار نویسوں میں تقسیم کیں جو انہوں نے یورپین پارلیمنٹ کے صدر، فرانس کے صدر ، برطانوی وزیر اعظم ، امریکی وزیر خارجہ اور عالمی اقتصادی فورم کو لکھا ہے۔ اس خط کی کاپیاں ان ملکوں کے سفارتخانوں میں بھجوا دی گئی ہیں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ انہیں یہ خط لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ خود کو پاکستان کا صدر کہنے والے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورۂ یورپ کا مقصد ان کو ( افتخارمحمد چوہدری) کو بدنام کرنا تھا اور اس سلسلے میں وہ اپنے ساتھ ایک کتابچہ بھی چھپوا کر لے گئے تھے جس میں نو مارچ کو ان کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کے علاوہ مزید الزامات بھی عائد کیے گئے۔ انہوں نے خط میں کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی مدتِ عہدہ پندرہ نومبر سنہ دو ہزار سات کوختم ہو رہی تھی اور سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر سماعت تھا کہ آیا ایک حاضر سروس جنرل صدر کے عہدے کا امیدوار ہوسکتا ہے۔ لیکن تین نومبر کو پرویز مشرف ایک غیر آئینی اقدام کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اپنی من پسند عدلیہ کو لے آئے۔
معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ایک آرمی چیف نہ تو آئین کو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی آئین میں ترمیم کر سکتا ہے۔ انہوں نے خط میں ان حالات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں وہ رہنے پر مجبور ہیں۔ معزول چیف جسٹس نے کہا ہے کہ انہیں کواور ان کی فیملی کو، جن میں ان کی بیوی اور تین بچے بھی شامل ہیں، غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے اہل خانہ کو گھر سے نکلنا تو دور کی بات گھر کے لان میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے بچے سکول جاتے ہیں اور انہیں گھر میں قید کرنے کی وجہ سے ان کی پڑھائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ افتخار چوہدری نے کہا کہ ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خط میں اُس ریفرنس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو ان کے خلاف دائر کیا تھا جسے سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے مسترد کر دیا تھا اور اس بینچ نے جھوٹا ریفرنس دائر کرنے پر حکومت کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا۔ معزول چیف جسٹس نے جنرل ریٹائرڈ پرویز شرف کے اس الزام کے بارے میں کہ انہوں نےسابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی کی گاڑی استعمال کی، کہا کہ تیرہ مارچ کو جب وہ سپریم کورٹ میں پیش ہونے جا رہے تھے تو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں بلوچستان ہاؤس لے جایا گیا او ر بعدازاں ضلعی انتظامیہ کے اہلکار انہیں اس گاڑی میں بیٹھا کر سپریم کورٹ لے گئے جو سابق وزیر اعظم کے زیر استعمال تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جررل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے اثرات بہت خطرناک ہوں گے اور ملک کو انتہا پسندی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت تک ملک میں جمہوریت نہیں پنپ سکتی جب تک عدلیہ آزاد نہ ہو۔ خط میں سپریم کورٹ کے ان ججوں پر تنقید کی گئی ہے جن میں اتنی بھی سکت نہیں ہے کہ وہ ججز کالونی میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کہ گھر میں قید کرنے کا نوٹس لیں۔ |
اسی بارے میں اکتیس جنوری کو ’یومِ افتخار‘17 January, 2008 | پاکستان معزول ججوں کے حق میں مظاہرہ28 January, 2008 | پاکستان وکلاء رہنماؤں کی نظربندی معطل19 December, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘06 December, 2007 | پاکستان دو معزول جج اپنے گھروں کو روانہ16 December, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ٹیلیفونک خطاب سنیں06 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||