دو معزول جج اپنے گھروں کو روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے دو ججوں کو اتوار کی دوپہر پی آئی اے کی ایک پرواز کے ذریعے کراچی بھیج دیا گیا۔ جن دو جج صاحبان کو کراچی روانہ کیا گیا وہ جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس غلام ربانی ہیں۔ وکلاء اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد ان کو الوداع کہنے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر موجود تھی۔ وکلاء نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے حق میں نعرے لگائے۔اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جسٹس غلام ربانی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین نومبر کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ میں وہ بھی شامل تھے اور اس بینچ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی حق کی بات کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ جسٹس غلام ربانی نے کہا کہ وہ اب بھی جج ہیں اور اپنی بحالی کے لیے کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔انہوں نے کہا کہ قاعدے قانون اپنی جگہ لیکن اگر انہیں عزت سے بلایا گیا تو وہ ضرور واپس آئیں گے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک کے بارے میں جسٹس غلام ربانی نے کہا کہ وہ اس تحریک کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم انہوں نے ججوں کی بحالی کی تحریک شروع کرنے پر وکلاء کو خراج تحسین پیش کیا۔ جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ چونکہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اس لیے وہ اب ججز کالونی میں تو نہیں آئیں گے البتہ اگر ان کے ساتھی جج نے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا بلائیں گے تو وہ ضرور آئیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ڈیرھ ماہ کے بعد ججز کالونی سے باہر نکلے ہیں تو کیسا محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ طبی علاج معالجے کے بہانے ججز کالونی سے باہر نکل جاتے تھے۔ بھگوان داس نے کہا کہ وہ اس دوران اسلام آباد کی انتظامیہ اور ’ سفید پوشوں‘ کے تعاون سے حسن ابدال اور ٹیکسلا بھی جاچکے ہیں۔ ان دو ججوں کے بعد ججز کالونی میں معزول کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت چار ایسے جج صاحبان شامل ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ان میں جسٹس سردار رضا خان، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں اور سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے ان کے گھر ان ججوں کو الاٹ کردیئے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔ | اسی بارے میں گھرخالی کرنے کے نوٹس پرجج کانوٹس02 December, 2007 | پاکستان ایمرجنسی لگانے کے مقاصد پورے ہو گئے: مشرف15 December, 2007 | پاکستان ’آئین بحال تو جج بھی بحال‘05 December, 2007 | پاکستان برطرف ججز کی حمایت سے انکار13 December, 2007 | پاکستان عالمی برادری نے جو کیا، کم کیا: بھگوان داس10 December, 2007 | پاکستان اس بار دیوالی پر گھر نہیں آئیں گے08 November, 2007 | پاکستان جج ہوں،عدالت جاؤں گا: بھگوان04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||