عالمی برادری نے جو کیا، کم کیا: بھگوان داس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے برطرف جج رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتِ حال پر عالمی برادری کا ردِ عمل ناکافی ہے اور اسے پاکستان کے زمینی حقائق کا ادراک نہیں ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار کے ساتھ ایک انٹرویو میں رانا بھگوان داس نے کہا کہ آٹھ جنوری کو پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا آزادانہ اور منصفانہ ہونے کا امکان اس وقت تک نہیں جب تک برطرف ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا اور قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہوتی۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے برطرف جج نے جو دیگر برطرف ججوں کی طرح اپنے گھر میں قید ہیں، کہا کہ وہ اور دیگر جج اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ پولیس پہرے پر ہے۔
’ججوں سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں ہے اور ان کے ٹیلی فون منقطع کر دیئے گئے ہیں۔‘ اپنے موبائل فون سے بات کرتے ہوئے، رانا بھگوان داس نے بی بی سی کی نامہ نگار کو بتایا کہ ججوں کو اس طرح حراست میں لینے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ نہ گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں اور نہ ان کو گھروں میں نظر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رانا بھگوان داس نے پاکستانی کی اس صورتِ حال پر بین الاقوامی برادری کے ردِ عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’عالمی برادری پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالا دستی کے لیے جو کچھ کر رہی ہے وہ کافی نہیں ہے۔ ’بین الاقوامی برادری پاکستان کی زمینی صورتِ حال سے واقف نہیں۔ اسے پاکستان کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بھی علم نہیں۔ اس معاملے پر (بین الاقوامی برادری کی جانب سے) جو کچھ بھی کہا گیا اور کیا گیا ہے وہ انتہائی ناکافی ہے‘۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا تعلق بہت زیادہ حد تک برطرف چیف جسٹس افتخار چودھری اور ان کے سینئر ساتھیوں سے ہے۔ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ان ججوں کو برطرف کرتے وقت ان کی مخالفت کو اپنے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے اقدام کی بڑی وجہ بتایا تھا۔ پاکستان میں اپوزیشن کے بڑے رہنما نواز شریف ان ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ججوں کی برطرفی کے معاملے پر مغربی سفارتکاروں کی بھی دلچسپی بظاہر کم پڑ گئی ہے اور وہ پاکستان میں استحکام اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں پیشرفت کے حق میں ہیں۔ |
اسی بارے میں جو کچھ کیا اس پر فخر ہے:خلیل رمدے06 November, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ٹیلیفونک خطاب سنیں06 November, 2007 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||