اکتیس جنوری کو ’یومِ افتخار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ’ضمیر کا قیدی‘ قرار دیا جائے۔ جمعرات کو کراچی میں وکلاء کے ہفتہ وار یومِ احتجاج کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے ایمنٹسی انٹرنیشنل سے مطالبہ کیا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو ضمیر کا قیدی قرار دیا جائے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’وکلاء اکتیس جنوری کو’یوم افتخار‘ منائیں گے اور یہ دن جج صاحبان اور وکلا رہنماؤں کی رہائی کے لیے وقف کیا گیا ہے‘۔ رشید رضوی نے اپیل کی کہ وکلاء اور سول سوسائٹی اکتیس جنوری کو جلوس نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم نے ایمنٹسی انٹرنیشنل، انٹرنشینل بار ایسو سی ایشن اور دیگر بار ایسوسی ایشنز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس احتجاج میں شریک ہوں‘۔ رشید رضوی کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور مزدور تنظیموں کو بھی اپیل کریں گے کہ وہ اپنے اپنے طور یہ دن منائیں، بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں یا ریلیاں نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور خودکش دھماکہ وکلاء کو ڈرانے کی کوشش تھی مگر وکلا ان حربوں سےڈرنے والے نہیں اور’ہم اس واقعے کی وجہ سے چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھیں گے۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ وکلاء باہر نہ نکلیں‘۔
ادھر پاکستان بار کونسل کی کال پر معزول ججوں کی بحالی، صدر پرویز مشرف کے استعفے، گرفتار وکلاء رہنماؤں کی رہائی کے لیے جمعرات کو ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس اور مظاہرے کیے۔ صوبہ سندھ میں وکلاء نے حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ ہائی کورٹس سمیت تمام ماتحت عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس منعقد کیے۔ کراچی میں بھی ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں وکلاء جمع ہوئے تاہم عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ بی بی سی اردو کے احمد رضا کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی نے احتجاجی جنرل باڈی اجلاس منعقد کیا جس میں وکلاء کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اجلاس میں صوبہ سرحد کے وکلاء کے اختلاف کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ وکلاء اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ لاہور سے بی بی سی اردو کے عباد الحق کے مطابق جمعرات کو پنجاب بھر میں بھی میں وکلاء نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیااور احتجاجی جلوس نکالے۔
لاہور میں وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے شروع ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے وکلاء بھی اس میں شامل ہوگئے۔ بارش کے باوجود وکلاء کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مظاہرین نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق اور صدر پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عدلیہ کی بحالی اور وکلا رہنماؤں کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کے اطلاعات ملی ہیں جہاں وکلاء نے عدالتوں میں ہڑتال کی اور پیش نہیں ہوئے ۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بنچ نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ کا دورانیہ کم کرنے کے بارے میں پاکستان بار کونسل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ جمعرات کے روز راولپنڈی میں ہونے والے لاہور ہائی کورٹ بار کا اجلاس صدر سردار عصمت اللہ کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بار ایسوسی ایشن ہفتے میں ایک دن سپریم کورٹ کے باہر بھی مظاہرہ کیا کرے گی۔ اجلاس کے دوران وکلاء نے ہال میں آویزاں کی ہوئی ان ججوں کی تصاویر کو اتار دیا جنہوں نے نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے چند روز قبل اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ وکلاء صرف ایک گھنٹہ عدالتوں کا بائیکاٹ کریں جبکہ جمعرات کے روز مکمل بائیکاٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے بھی پیش ہوں۔ پاکستان بار کونسل کے اس فیصلے کو متعدد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز نے مسترد کر دیا ہے۔ جڑواں شہروں کے وکلاء نے کچہری کے احاطے میں پاکستان بار کونسل کی کال پر معزول ججوں کی بحالی، گرفتار وکلاء رہنماؤں کی رہائی کے لیے جمعرات کو عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس اور مظاہرے کیے۔ کوئٹہ سے عزیزاللہ خان نے بتایا ہے کہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے بھی پاکستان بار کونسل کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے جس میں اعلی عدالتوں کا بائکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور فیصلے کی کاپی کو ضلع کچہری میں آگ لگا دی ہے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ کے نے دیگر وکلا کے ہمراہ ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ بلوچستان کے نمائندہ وکلاء نے ایک اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے فیصلے پر شدید رد عمل کی اظہار کیا ہے اور کہا کہ ساٹھ سے زیادہ ججوں اور بڑی تعداد میں وکلا کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کے علاوہ اس وقت وکلاء کے نمائندے نظر بند ہیں تو وہ کیسے ان ججوں کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔ باز محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے وکلا نو فروری تک اعلی عدالتوں کا بائکاٹ جاری رکھیں گے اور نو فروری کے اجلاس میں پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ چودہ جنوری کو پاکستان بار کونسل کے اجلاس یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ وکلاء اعلی عدالتوں میں پیش ہوں گے لیکن صوبہ سرحد کے وکلا نے اس کی مخالفت کی تھی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر سخی سلطان ایڈووکیٹ نے اس بارے میں بتایا کہ اس اجلاس میں بلوچستان کی نمائندگی نہیں تھی کیونکہ بلوچستان سے پاکستان بار کونسل کے رکن علی احمد کرد ایڈووکیٹ ہیں اور وہ اب تک نظر بند ہیں۔ انھوں نے پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں کیونکہ ججوں اور وکلا کی قربانی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت نظر بند وکلا میں علی احمد کرد اور طارق محمود کے علاوہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد: بار کے فیصلے سے اختلاف15 January, 2008 | پاکستان ’ذمہ دار مشرف حکومت‘: وکلاء11 January, 2008 | پاکستان وکلاء کا احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ10 January, 2008 | پاکستان سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا07 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||