وکلاء کا احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بار کونسل کی اپیل پر جمعرات کو وکلاء تنظیموں نے ملک بھر میں یوم احتجاج منایا۔ اس موقع پر کراچی سمیت صوبہ سندھ کے تمام اضلاع میں وکیلوں نے چھوٹی بڑی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور وہ اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ کراچی سے نامہ نگار احمد رضا نے بتایا کہ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس ہوئے جن میں ملک میں آئین اور عدلیہ کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کراچی بار کے وکلاء نے اجلاس کے بعد سٹی کورٹس سے ایک جلوس بھی نکالا جس نے عدالت کے اطراف گشت کیا اور صدر پرویز مشرف اور ان کے حامیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ کراچی بار کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی نے بتایا کہ جنرل باڈی اجلاس میں لاہور میں جمعرات کو ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے وکلاء پر حملے کی سازش قرار دیا۔ ان کے مطابق اجلاس میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال کی جائے، میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کو رہا کیا جائے۔ اجلاس نے یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ صدر پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے قومی حکومت اور غیرجانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن تشکیل دیکر فوری طور پر انتخابات کرائے جائیں تاکہ ملک میں جمہوریت بحال ہو اور آئین کی بالادستی قائم ہوسکے۔ لاہور میں ڈسٹرکٹ بار کے وکیلوں نے ایوان عدل سے احتجاجی جلوس نکالا جس میں پروگرام کے مطابق ہائی کورٹ پہنچنے پر ہائی کورٹ بار کے ارکان کو اس میں شامل ہوجانا تھا لیکن ابھی جلوس راستے میں ہی تھا کہ ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکہ ہوگیا جس کے بعد جلوس کے شرکاء فوری طور پر منتشر ہوگئے۔ لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری شمیم الرحمان ملک نے بتایا کہ ’اگر یہ بلاسٹ نہ ہوتا تو دو یا تین منٹ بعد ہم وہاں ہوتے جہاں یہ بلاسٹ ہوا ہے، ہم اس جگہ سے کچھ دور ہی تھے کہ دھماکہ ہوا جس کے بعد ہم واپس ایوان عدل چلے گئے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے لئے جمعرات کے دن اور اس سڑک کا انتخاب کیا گیا جہاں سے وکلاء کا جلوس گزرنا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا اصل ہدف وکلاء تھے۔ ’اگر پولیس ٹارگٹ ہوتی تو پولیس والے تو روز ہی اس جگہ کھڑے ہوتے ہیں جہاں یہ دھماکہ ہوا ہے تو یہ آج ہی یہ خاص طور پر یہ دھماکہ کیا گیا جب ہماری ریلی ہونی تھی۔‘ شمیم الرحمن نے بتایا کہ واقعے کے بعد لاہور بار کا اجلاس ہوا جس میں واقعے کی شدید مذمت کی گئی اور یہ عزم کیا گیا کہ وکلاء اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کوئٹہ سمیت صوبہ بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی وکیلوں نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس اور مظاہرے کئے۔ کوئٹہ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں شریک وکلاء نے صدر پرویز مشرف کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ پشاور سمیت صوبہ سرحد میں بھی وکیلوں نے ججوں کی برطرفی، اعتزاز احسن سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں کی نظربندی اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء نے معزول ہونے والے ججوں کے بڑے بڑے پورٹریٹ لگائے ہوئے تھے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ بعد میں وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ سے جسٹس چوک تک احتجاجی مارچ بھی کیا جس میں گزشتہ روز پشاور میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والے سینئر وکیل عبدالباری کے قاتلوں کی گرفتاری اور اعتزاز احسن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں پشاور ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کا مشترکہ جنرل باڈی اجلاس ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ اعتزاز احسن سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف جمعہ اور سنیچر کو بھی تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی آج وکلاء احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور شدید بارش کی وجہ سے انہوں نے عدالتوں کے احاطے سے باہر نکل کر احتجاج نہیں کیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے اجلاس سے اعتزاز احسن کے بیٹے علی اعتزاز نے خطاب بھی کیا۔ | اسی بارے میں عدلیہ کی بحالی، میڈیا کیلیے مظاہرے14 December, 2007 | پاکستان وکلاء کا یوم سیاہ، علامتی ہڑتال26 December, 2007 | پاکستان وکلاء کا ملک گیر احتجاج جاری03 January, 2008 | پاکستان سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا07 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||