سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں حالیہ ہنگاموں کے حوالے سے ایک لاکھ سے زائد افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات دائر ہونے کے بعد وکلاء کا کام بڑھ گیا ہے اور ان پر عدالتی بائیکاٹ ختم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے اکثر مقدمات انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دائر کیے گئے ہیں جن کی ضمانت گرفتاری کے بعد مقدمہ چلانے والی عدالت کر سکتی ہے یا پھر ہائی کورٹ۔ ایمرجنسی کے نفاذ اور جج صاحبان کی جبری رخصتی کے خلاف وکلاء تنظیموں نے ہائی کورٹ کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں وہ ہزاروں افراد جو فوری طور پر ریلیف چاہتے ہیں وکلاء کے بائیکاٹ کی وجہ سے اس سے محروم ہیں۔ اس حوالے سے وکلاء تنظیموں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے کوئی راہ نکالیں۔
سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر اور سابق جسٹس رشید رضوی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے ان سے درخواست کی ہے کہ بائیکاٹ میں تھوڑی نرمی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تیرہ جنوری کو پشاور میں پاکستان بار کاؤنسل کا اجلاس ہوگا جس میں اس درخواست پر غور کیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وکلاء بائیکاٹ ختم کر کے عدالتوں میں حاضر ہوں گے تو بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے موجودہ جج صاحبان سے کسی کو بھی انصاف نہیں ملے گا۔ اکثر مقدمات اندرون سندھ دائر کیے گئے ہیں، مگر پولیس نے ابھی تک ان کے چالان پیش نہیں کیے ہیں۔ پیپلز لائیرز فورم پر کارکنوں کی ضمانتوں کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ فورم کے صدر ایڈووکیٹ شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک چالان پیش نہیں کیے ہیں، اس لیے جب تک چالان جمع نہیں ہوتے پولیس کسی کو ملزم قرار نہیں دے سکتی ہے۔ پولیس کو سات روز میں چلان پیش کرنا ہے جو دن پورے ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں وکلاء کا ملک گیر احتجاج جاری03 January, 2008 | پاکستان اعتزاز کی نظر بندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان سندھ کے لئے تشدد اور آفات کا سال26 December, 2007 | پاکستان وکلاء نے ’جسٹس سکوائر‘ بنا دیا20 December, 2007 | پاکستان وکلاء رہنماؤں کی نظربندی معطل19 December, 2007 | پاکستان ’عدالتی احکامات کو اہمیت دیں‘18 December, 2007 | پاکستان ’عدلیہ کے بغیر آئین کی بحالی نام نہاد‘15 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||