وکلاء کا یوم سیاہ، علامتی ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء نے بدھ کو معزول ججوں کی بحالی اور سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن پر حملے کے خلاف یوم سیاہ منایا اور عدالتی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ کیا ہے۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ ہائی کورٹ بار کے وکلاء کی اکثریت کے چھٹیوں پر ہونے کی وجہ سے احتجاجی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد نہیں ہوسکا، تاہم ایک پریس رلیز جاری کر کے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن پر حملے کی مذمت کی گئی۔ کراچی سٹی کورٹ میں وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعرات کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔ لاہور میں بھی وکلاء اور سول سوسائٹی نے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کی دوبارہ گرفتاری اور پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی معزولی کے خلاف احتجاجاً یومِ سیاہ منایا۔ وکلاء نے کالی پٹیاں باندھیں، سیاہ پرچم لہرائے اور تحریک کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یومِ سیاہ کے حوالے سے ایوانِ عدل میں لاہور بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس سے وکلاء کے علاوہ طلبہ، غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں اور اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز نے بھی خطاب کیا۔ بشریٰ اعتزاز کا کہنا تھا کہ پولیس نے اعتزاز احسن کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اعتزاز کو چکری کے مقام پر گرفتار کرنے کے بعد پولیس نے اعتزاز اور اُن کے بیٹے علی احسن کو ایک کًھلی جیپ کے پچھلے حصے میں پھینکا اور اُن پر بندوق تانی۔ اس کے بعد اُن کو سخت سردی میں گھنٹوں کی مسافت کے بعد لاہور لایا گیا جس کے باعث اعتزاز تین دن تک نمونیہ میں مبتلا رہے۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ نے وکلاء کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوے فیصد وکلاء نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اُنہوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں، طلبہ اور غیر سرکاری تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اسلام آباد میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ڈسٹرکٹ بار میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں وکلاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔ احتجاجی مظاہرے کے بعد اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں، سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اور علی احمد کرد کی نظربندی ختم کی جائے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید کے مطابق عدلیہ اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں وکلاء کی تحریک میں پندرہ جنوری کے بعد تیزی آئے گی کیونکہ اس تاریخ تک ملک کی تمام وکلاء بار میں انتحابات مکمل ہوچکے ہوں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا وہ اس تحریک میں وکلاء برادری کے ساتھ ہوں گے۔ راولپنڈی میں بھی وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیز االلہ نے بتایا کہ بلوچستان بھر میں وکلاء نے یوم سیاہ منایا اور اس حوالے سے بار رومز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے بتایا ہے کہ بلوچستان بھر میں وکلاء ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوئے جبکہ ضلعی عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا۔ پشاور سے سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ صوبہ سرحد میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ رہا۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل کے تحت ہونے والے اجلاس میں صوبہ کی تقریباً تمام ضلعی اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور سیکریٹری صاحبان نے شرکت کی۔ اجلاس میں تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد میں وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ | اسی بارے میں فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء22 November, 2007 | پاکستان ’ججوں کی باعزت برخاستگی ہو‘07 December, 2007 | پاکستان ’عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں‘10 December, 2007 | پاکستان مسلم لیگ منشور: ججز کی بحالی 14 December, 2007 | پاکستان ’عدلیہ کے بغیر آئین کی بحالی نام نہاد‘15 December, 2007 | پاکستان ’پارلیمنٹ کومہلت واپس،احتجاج ہوگا‘24 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||