عدلیہ کی بحالی، میڈیا کیلیے مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے ممکنہ خاتمے سے ایک روز قبل کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سول سوسائیٹی کی تنظیموں اور صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جن میں ججوں کی بحالی اور میڈیا کے حالیہ قوانین واپس لینے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ کراچی میں ریگل چوک سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سول سوسائیٹی کی تنظیموں سمیت عوامی تحریک، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ شریک تھے جو ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ججوں کی بحالی کے بینر، سیاسی جماعتوں کے جھنڈے نواب اکبر بگٹی، محمود خان اچکزئی، افتخار محمد چودھری، مظاہرے میں صرف وہ سیاسی جماعتیں شریک تھیں جو انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف سخت موقف رکھنے والے انسانی حقوق اور شباب ملی کے کارکن بھی ایک ساتھ ہی موجود تھے۔ مظاہرے میں شریک انسانی حقوق کی کارکن بینا سرور کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد بھی موجودہ حالات تبدیل نہیں ہوں گے، جج بحال نہ ہوں گے، پرویز مشرف بھی موجود رہیں گے اور نتخابات میں بھی بدترین دھاندلی ہوگی۔ انسانی حقوق کمیشن کی رہنما عظمیٰ نورانی کا کہنا تھا کہ عوامی مزاحمتی تحریک کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پہلے روز سے احتجاج جاری ہے۔ ’اس احتجاج کے ذریعے ہم بتانا چاہتے ہیں پہلے روز سے آخر تک وہ ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی معطلی کے خلاف رہے ہیں۔‘ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی رہنما حکیماں بلوچ کا کہنا تھا کہ آج اس ریاستی جبر اور ظلم نے اس قدر مجبور کردیا ہے کہ مائیں بلوچ اور بہنیں روایت کے برعکس سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ’پچھلے ساٹھ سالوں سے مسلسل بلوچستان پر فوجی کشی کی جا رہی ہے۔ آٹھ ہزار سے زائد بلوچ بھائی لاپتہ ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ بچ کر نکلتے بھی ہیں تو زندہ لاش کی صورت میں۔‘
ہائی کورٹ بار کے رہنما اختر حسین کا کہنا تھا کہ یہ مارش لاء عدلیہ، وکلاء اور میڈیا کے خلاف ہے، اس کے تحت جو انتخابات ہو رہے ہیں وہ ایک ڈھونگ ہے جس کی وکلاء بائیکاٹ کرتے ہیں۔ لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور میں پریس کلب سے پنجاب اسمبلی تک صحافیوں نے احتجاجی جلوس نکالا، پیپلز پارٹی کی چند خواتین، سول سوسائیٹی کی تنظیموں کے کارکن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صحافیوں نے آزادی صحافت کے حق میں نعرے لگائے۔ پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر صحافی عہدیداروں نے خطاب کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل جیو کی بندش اور دیگر ٹی وی چینلوں کے مختلف پروگراموں پر پابندی کی مذمت کی۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹ صدر عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے کالے قوانین واپس نہ لیے اور پابندیاں نہ ہٹائیں تو لاہور سے ایوان صدر اسلام آباد تک صحافیوں کی ریلی نکالی جائےگی جس میں ملک بھر سے صحافی شریک ہوں گے۔ ادھر اسلام آباد پریس کلب کے باہر صحافیوں نے احتجاجی کیمپ لگایا جس میں پیمرا اور پریس پبلیکیشن ترمیمی آرڈیننس کے خلاف نعرے لگائے گئے اور میڈیا پر نافذ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||