BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 January, 2008, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: بار کے فیصلے سے اختلاف

وکلاء تنظیموں میں پہلی مرتبہ اختلافات سامنے آئے ہیں
سرحد بار کونسل اور اس سے وابستہ وکلاء کی چالیس تنظیموں نے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی کے فیصلے پر پاکستان بار کونسل کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ بار روم میں منعقدہ اجلاس میں سرحد بار کونسل، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی چالیس دیگر تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔

سرحد بار کونسل کے رُکن قیصر رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام تنظیموں کے نمائندوں نے پاکستان بار کونسل کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھنے کے حق میں رائے دی۔

 نہ تو تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ بحال ہوئی اور نہ ہی ہمارے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا گیا ۔ پاکستان بار کونسل کا فیصلہ پیسے کی چمک کے مرہونِ منت ہے
مزمل خان

پاکستان بار کونسل نے اتوار کو پشاور میں اپنے اجلاس میں بائیکاٹ کو صرف ایک دن تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پشاور کے وکلاء کی مخالفت کے سبب اعلان ایک بیان کی صورت میں پیر کو اسلام آباد میں کیا گیا۔

سرحد بار کونسل نے منگل کے اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے فیصلے کے خلاف قرار داد مذمت منظور کی۔

وکلاء کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بائیکاٹ میں نرمی کرنے کا فیصلہ ناموزوں ہے کیونکہ اُن کے بقول جن مقاصد کے حصول کے لیے وکلاء نے احتجاج شروع کیا تھا وہ ابھی حاصل نہیں ہوئے ۔

تحریک کو عوامی حلقوں سے بھی حمایت ملی ہے

پاکستان بار ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر مزمل خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ تو تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ بحال ہوئی اور نہ ہی ہمارے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا گیا۔ پاکستان بار کونسل کا فیصلہ پیسے کی چمک کے مرہونِ منت ہے‘ ۔

ماتحت عدالتوں کے بائیکاٹ میں سختی پیدا کرنے کی غرض سے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہر سنیچر کو ان عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ روزانہ دو گھنٹے بھی بائیکاٹ کیا جائے گا ۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگر اعلیٰ عدالتوں میں کسی وکیل کی غیر موجودگی کی بنا پر کوئی کیس خارج کیا گیا تو ’اس کے خلاف اقدام کے طور پر وکلاء اعلیٰ عدالتوں کے کمروں کو تالے لگا دیں گے‘ ۔

مزمل خان نے بتایا کہ بائیکاٹ جاری رکھنے کے فیصلے کے حق میں دوسرے صوبوں کی بار کونسلوں کو بھی آمادہ کیا جائےگا تاکہ وہ بھی اپنے اپنے صوبوں میں بائیکاٹ جاری رکھیں ۔

اسی بارے میں
سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا
07 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد