بائیکاٹ جاری: دورانیے میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء کی تنظیم پاکستان بار کونسل نے عبوری حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف اپنے احتجاج میں نرمی لاتے ہوئے عدالتوں کے بائیکاٹ کو روزانہ ایک گھنٹے تک محدود کر دیا ہے۔ تاہم ہفتے میں ایک دن جعمرات کے روز عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس نرمی کا فیصلہ پاکستان بار کونسل کے پشاور میں اتوار کو ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا تاہم اس کا باضابطہ اعلان آج ایک بیان کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اجلاس کونسل کے نائب چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ کونسل نے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت ججوں کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھنے کے موقف، قربانیوں اور جذبات کی تعریف کی۔ کونسل نے اب بائیکاٹ کے نئے پروگرام کے تحت ہر جعمرات کو عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ اور روزانہ عدالتوں کا ایک گھنٹے صبح ساڑھے دس سے ساڑھے گیارہ بجے تک بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ بیان میں واضع کیا گیا کہ بائیکاٹ میں نرمی کے فیصلے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے پی سی او والے ججوں کو قبول کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ ان افراد کی مشکلات کو قرار دیا گیا ہے جن کے خلاف بےبنیاد فوجداری مقدمات قائم کیئے گئے ہیں یا جنہیں انصاف کی فوری ضرورت ہے۔ یہ تمام بار ایسوسی ایشنز کے لیئے کم سے کم احتجاجی پروگرام ہے۔ اگر کوئی تنظیم اس میں اضافہ کرنا چاہے تو بظاہر کر سکے گی۔ لیکن بعض تجزیہ نگاروں کے بقول اس بائیکاٹ میں نرمی کی ایک وجہ شاید پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہنگاموں کے الزام میں صوبہ سندھ میں بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں کی گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔ مقامی عدالتوں سے ان کے ضمانت کی درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعد انہیں اب رہائی کے لیے اعلیٰ عدالتوں کے پاس جانا ہوگا۔ وکلاء برداری میں کافی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کے حامیوں کی ہے جنہیں اب ان کارکنوں کا مقدمہ لڑنا ہوگا۔ پاکستان میں وکلاء برادری نے ملک میں گزشتہ برس تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ اور اعلی عدالتوں کے ججوں کی برطرفی کے بعد عدالتوں کا بائیکاٹ شروع کر دیا تھا۔ بار کونسل نے تمام ایسوسی ایشنز سے کہا ہے کہ وہ ہر جمعرات جنرل باڈی اجلاس منعقد کریں اور احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کریں۔ اس کے علاوہ بھوک ہڑتالی کیمپ بھی قائم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں جہاں روزانہ کم از کم دو وکلاء دو گھنٹے کی ہڑتال کریں۔ تمام بار ایسوسی ایشنز کو پی سی او ججوں کی تقاریب کا بائیکاٹ کرنےاور اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں قومی کنوینشن منعقد کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اس بابت اسلام آباد میں کنوینشن نو فروری کو منعقد کیا جائے گا جس کے بعد وکلاء برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کریں گے۔ بار کونسل نے اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور طارق محمود سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں وکلاء کا ملک گیر احتجاج جاری03 January, 2008 | پاکستان سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا07 January, 2008 | پاکستان وکلاء کا احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ10 January, 2008 | پاکستان ’ذمہ دار مشرف حکومت‘: وکلاء11 January, 2008 | پاکستان ’وکلاء کو اقتصادی مشکلات کا سامنا‘13 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||