شدت پسندوں کے بدلتے طریقۂ کار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عابد ہنزلہ کی بیوی فاطمہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے خود کو ایک خود کش بم دھماکے میں ہلاک کر لیا ہے تو وہ ذرا بھی حیران نہیں ہوئيں۔ ایک مہینے قبل ہی انہیں عابد کا ایک خط موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اب وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ فاطمہ کو اس خط میں بتایا گیا تھا کہ ان کے اور ان کے بچوں کی مدد کے لیے رقم جلد ہی ان کے پاس پہنچ جائے گی۔ خط میں صاف طور پر یہی کہا گیا تھا کہ ’تمہیں دوسری شادی کر لینی چاہیے کیونکہ یہی تمہارے اور ہمارے بیٹے کے لیے بہترین ہوگا‘۔ خط میں فاطمہ سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ان کی ماں کو ان کا سلام کہہ دیں اور ان سے کہیں کہ’میرے لیے دعا کریں ۔۔۔۔۔میں راہ خدا میں جا رہا ہوں‘۔ عابد کا یہ خط اس کے گھر سے ان تفتیش کاروں نے برآمد کیا جو کراچی میں مشتبہ شدت پسندوں کے بارے میں تحقیقات کر رہے تھے۔ انہیں عابد کے بارے میں بعض معلومات تھیں کیونکہ ان کے والد اور بھائی کئی برس قبل ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر ميں مارے گئے تھے۔ گیارہ ستمبر 1999 میں امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے حملے کے بعد عابد جہاد کے لیے افغانستان چلے گئے تھے۔ اس سے قبل وہ اسلام آباد کے ایک مدرسے ميں زیر تعلیم تھے۔ افغانستان سے واپس آنے کے بعد بھی انہوں نے لال مسجد میں جہادی تعلیم جاری رکھی اورگزشتہ جولائی میں جب سکیورٹی اہلکاروں نے لال مسجد پر حملہ کیا تو اس وقت عابد کوگرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ پولیس کو جب عابد کا خط اس کی ماں کے پاس سے ملا تو خود کش حملہ روکنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا لیکن گزشتہ برس یکم نومبر کو عابد نے سرگودھا ميں اپنی موٹر سائیکل پاکستانی فضائیہ کی بس سے ٹکرا دی۔ اس دھماکے میں عابد کے علاوہ گیارہ افراد ہلاک ہوئے جن میں فضائیہ کے سات اہلکار بھی شامل تھے۔ واقعہ کی تفتیش کرنے والے ایک اہلکار نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی’ کافی دلچسپ طریقے سے سرانجام دی گئی۔ اس موٹرسائیکل کے دونوں طرف دو بڑے ڈبے تھے جیسے دودھ والوں کی موٹرسائیکل میں ہوتے ہيں۔ان ڈبوں میں بارود رکھا گیا تھا جبکہ ڈیٹونیٹر موٹرسائیکل کے ہارن میں تھا‘۔ تحقیقات کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ عام طور پر خودکش حملہ آور کی تلاش کے حوالے سے جسمانی تلاشی لی جاتی ہے اور اسی طرح ’عابد کی بھی پورے راستے میں تلاشی لی گئی لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ان ڈبوں کی تلاشی لی جائے‘۔ اہلکار نے بتایا کہ وہ عابد کے باقی ساتھیوں کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق اس گروہ کی سربراہی فوج کے سابق میجر احسان الحق کر رہے تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب شدت پسندی کی کاروائی میں کسی فوجی کا نام سامنے آیا ہو۔
خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ’ماہرین کے خیال ميں جہادی تنظیمیں ایک دوسرے میں مدغم ہوگئی ہیں‘۔ اہلکار کا کہنا تھا ’جب شدت پسند اہلِ تشیع پر حملہ کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ وہ لشکرِ جھنگوی ہیں اور جب وہ کسی بڑے سیاسی رہنما کے قتل کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں اس میں جیشِ محمد یا پھر حرکت المجاہدین کا ہاتھ ہے اور کہیں حملہ قبائلی علاقے کے نزدیک یا پھر سکیورٹی اہلکاروں پر ہوتا ہے تو طالبان کا نام آتا ہے‘۔ سکیورٹی اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب شدت پسند اپنی کارروائی سرانجام دینے کے طریقوں میں تبدیلیاں لا رہے ہیں اور وہ اب چھوٹے گروپ بنا کر کام کرتے ہیں کیوں کہ یہ انتظامی اور اختیاری طور پر ان کے لیے زيادہ بہتر اور مفید ہوتا ہے۔ ایک اور انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ جب کبھی وہ کسی شدت پسند گروہ کو بے نقاب کرتے ہيں تو انہيں یہ معلوم نہيں ہوتا کہ ان کے اعلٰی رہنما کہاں چھپے ہوئے ہیں لیکن سب سے زیادہ مشکل اور ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس علاقے میں اس قسم کے اورگروہ کہاں کام کر رہے ہیں۔
ماضی میں زیادہ تر شدت پسندوں کا تعلق افغان اور پاکستان کی سرحد پر واقع قبائل اور وزیرستان کے پشتون قبائل سے ہوتا تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہيں۔ایک انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ ’نائن الیون‘ کے بعد اب پنجابی ، مہاجر، کشمیری اور قبائلی بلوچ بھی شدت پسندی میں شامل ہيں اور حال ہی میں کراچی میں سنّیوں کی جانب سے اہل تشیع پر کیے جانے والے حملوں کے منصوبے کا ماسٹر مائنڈ کشمیری تھا۔ ان کے مطابق’نائن الیون سے قبل فرقہ وارانہ حملوں میں کشمیریوں کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا تھا لیکن اب یہ ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے اور یہ سکیورٹی فورسز کے لیے ایک مشکل امر ہے‘۔ |
اسی بارے میں انسدادِ دہشتگردی کے جدید آلات29 January, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی ملوث نہیں: پاکستان18 October, 2007 | پاکستان ’حکومت عمارت ختم کر سکتی ہے نظریہ نہیں‘02 August, 2007 | پاکستان مشرف مخالف جذبات جہادیوں کا ہتھیار15 July, 2007 | پاکستان ’فوج کو سیاست چھوڑنا ہوگی‘14 July, 2007 | پاکستان طالبانائزیشن، مشرف کو انتباہ30 June, 2007 | پاکستان ’مشرف امریکہ کی ضرورت‘04 June, 2007 | پاکستان ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||