بد امنی:شدت پسندوں کا بڑا ہتھیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ ایک برس امن عامہ کی صورتحال میں کافی ابتر ہوئی ہے اور حکومت اس تمام صورتحال کی ذمہ داری قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں یا کالعدم جہادی تنظیموں پر ڈالتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ امنِ عامہ کی خراب صورتحال کے ذمہ دار شدت پسند ہی ہیں یا کوئی اور بھی اس میں ملوث ہوسکتا ہے؟ ملک میں امنِ عامہ کی مخدوش حالت کے پیچھے اگر بقول حکومت قبائلی علاقوں اور سوات میں سرگرم شدت پسندوں کا مبینہ ہاتھ ہے تو سوال یہ ابھرتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کے علاوہ مغربی دنیا کو بھی خدشات ہیں کہ عسکریت پسند اس حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہیں اسلامی ریاست کے قیام کے ایجنڈے کو تو آگے نہیں بڑھا رہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اکثر اسلامی شدت پسند تنظیمیں ایک اسلامی ریاست کے قیام کی خواہش مند ہمیشہ رہی ہیں۔ تاہم وہ اس ہدف کے حصول کے لیے نہ تو جمہوریت اور نہ ہی انتخابات پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ پرامن طریقے سے اقتدار میں آنا ان کے لیے انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان حالات میں بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بدامنی ہی ان کے ہدف کے حصول کا ایک بڑا ہتھیار ہو سکتی ہے۔ تجزیہ نگار بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید حسین نے ان شدت پسندوں کے نظریے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ سرحدوں پر یقین نہیں رکھتے اور اپنی سوچ کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ تمام دنیا پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس سوچ اور نظریے کا مقابلہ بندوق کے ذریعے کرنے کی غلط کوشش کی۔’ کسی بھی سوچ یا نظریے کو شکست بہتر سوچ سے دی جاسکتی ہے‘۔ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید حسین سمجھتے ہیں کہ شدت پسند ابھی اقتدار میں آنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ’ان میں اس کی صلاحیت نہیں۔ نہ ابھی نہ پانچ دس برس بعد‘۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے اسی طرح جاری رہے تو ان کا منفی اثر ضرور ہوگا اور شدت پسندوں کی حمایت میں کمی کا سبب بنے گا۔ جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اس خیال سے متفق نہیں کہ شدت پسند بندوق کے زور پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ بات اقتدار حاصل کرنے کی ہے اور نہ انہیں (شدت پسندوں) کو اس طرح سے پیش کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا تجزیہ ذرا مختلف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ امریکہ کی ضرورت ہے قبائلی لوگوں کی نہیں۔ مقامی طور پر یہ جنگ صدر مشرف اور اس کی حکومت کی ضرورت ہے مذہبی طبقے کی نہیں‘۔ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی قتل کی ذمہ داری بھی حکومت نے فوراً قبائلی جنگجو سردار بیت اللہ محسود پر ڈالی تھی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اب بھی اس سے متفق نہیں۔ پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ کراچی ریلی پر حملے کے بعد بھی حکومت کی جانب سے خبریں دی گئی تھیں کہ اس میں بیت اللہ محسود ملوث ہیں ’لیکن بیت اللہ محسود نے دو ذرائع سے محترمہ کو یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وہ اس میں ملوث نہیں۔ یہ ان کا کام نہیں‘۔ تو پھر یہ شدت پسندوں کا ہوّا آخر حکومت کیوں کھڑا کر رہی ہے؟ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان شدت پسندوں کو حکومت نے ہمیشہ اپنے مفاد میں استعمال کیا ہے۔ اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ اسلامی ریاست کا مطالبہ تو ہر پاکستانی کرتا ہے اور یہ تو ملک کے آئین میں درج ہے کہ یہ ملک ایک اسلامی ریاست ہوگی۔ ’یہ خواہش تو کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ تو عین آئین کے مطابق ہے‘۔ نوے کی دھائی میں مالاکنڈ اور سوات میں مولانا صوفی محمد کی تحریک نے جمہوریت کو کفر اور انتخابات کو حرام قرار دیا تھا لیکن مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ پھر متحدہ مجلس عمل ان علاقوں کو قومی دھارے میں لائی وہاں انتخابات بھی ہوئے اور ووٹ بھی ڈالے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں ’آج بھی قبائلی علاقوں میں الیکشن ہو رہے ہیں سوات میں ہو رہے ہیں۔ کوئی عنصر نہیں جو انہیں روکنے کی اب تک کوئی کوشش کر رہا ہو۔ اگر بندوق کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا ان کا مقصد ہوتا تو وہ تو اپنے علاقوں میں انتخابات ہی نہ ہونے دیتے‘۔ سرکاری تحقیقات کے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکنے کی وجہ سے فی الحال شاید خدشات پر ہی بات ہو رہی ہے۔ کوئی شدت پسندوں کے حکومت پر قبضے کے عزائم کی بات کر رہا ہے تو کسی کے خیال میں یہ سب امریکہ کی افواج یہاں تعینات کروانے اور جوہری اثاثوں اور وسائل پر قابض ہونے کے لیے کروایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث اصل افراد تک پہنچے بغیر اس قسم کی قیاس آرائیوں سے جان چھرانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||