BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 15 February, 2008 - Published 14:39 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل آباد:پی پی اور ن لیگ میں’جنگ‘

فیصل آباد مسلم لیگ نون
مسلم لیگ نون فیصل آباد کی گیارہ سیٹوں میں سے صرف نو پر امیدوار کھڑے کر سکی ہے
فیصل آباد کی دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں پیپلزپارٹی کے آصف زرداری کے جلسہ عام میں موجود رمضان اشرف نے کہا کہ ’میں وہ آدمی ہوں جو کبھی بھی پیپلز پارٹی کا ووٹر تھا نہ سپورٹر لیکن بے نظیر بھٹو کے قتل نے میری سوچ بدل دی ہے۔‘

یہ بدلی ہوئی سوچ صرف اس پچاس پچپن برس کےدکاندار رمضان اشرف کی ہی نہیں ہے بلکہ آئندہ انتخابات میں یہ سوچ ایک وسطی پنجاب کی انتخابی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے والی ہے۔

ضلع فیصل آباد کے بارے میں عمومی خیال یہی ہے کہ یہ مسلم لیگ نون کا گڑھ ہے لیکن بدلے ہوئے حالات میں اب یہ پیشنگوئی کرنا بہت ہی مشکل ہوگا کہ مسلم لیگ نون کلین سویپ کرے گی۔

پہلی بات تو یہ مسلم لیگ نون فیصل آباد سے قومی اسمبلی کی تمام گیارہ سیٹوں میں سے صرف نو پر امیدوار کھڑے کر سکی ہے اوران میں سے بھی ایک سیٹ جمیعت علمائے پاکستان کے ایک دھڑے کے سربراہ فضل کریم کو دیدی گئی ہے۔

سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں فیصل آباد کی شہری اور مضافاتی چھ میں سے چار پر کامیاب ہوئی اور ایک ایک سیٹ پیپلز پارٹی کو ملی تھی۔

’اب حالات بدلے ہوئے ہیں ”فیصل آباد کے ایک سینئر صحافی میاں محبوب جاوید نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے امیدواروں میں انیس بیس کا فرق ہے اور الیکشن والے دن جس طرف کی ہوا چل پڑی وہی پارٹی ووٹ سمیٹ جائے گی۔

آصف علی زرداری
وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں اس وقت بےنظیر بھٹو سےہمدردی لہر چل رہی ہے

وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں اس وقت بےنظیر بھٹو سے ہمدردی کی لہر چل رہی ہے۔ اس کا مظاہرہ آصف زرداری کے جمعرات کے جلسے میں بھی نظر آیا جو خوف وہراس کی ایک فضا ہونے کے باوجود آٹھ سے دس ہزار ایسے لوگوں کا مجمع اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگئے جو آصف زرداری کے بقول اپنے سر پر کفن باندھ کر آتے تھے۔

فیصل آبادمیں نواز شریف کی پرستاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں کہ وفاق پرست ہیں۔ رمضان اشرف ستائیس دسمبر سے پہلےنواز شریف کے حامی تھے لیکن اب وہ بم دھماکے کے خطرے کونظر انداز کرکے آصف زراداری کے جلسے میں پہنچے تھے۔انہوں نے کہا کہ ’ بے نظیر کا قتل پاکستان توڑنے کی سازش ہے اورآصف زرداری کو ووٹ دیکر میں نے یہ سازش ناکام بنانی ہے۔‘

مسلم لیگ نون کی پیپلز پارٹی سے اسی ’لو افئیر‘ نے تاندلیانوالہ سے مسلم لیگ قاف کے امیدوار کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

مسلم لیگ قاف کے امیدوار نے نون کے نامزد امیدوار کو یہ یقین دہانی کرکے اپنے حق میں دستبردار کرایا کہ وہ ان کے رشتہ دار کی سزائے موت کی معافی دلوادیں گے لیکن سیاسی افق پر بدلی ہوئی فضا کے باعث تجزیہ نگاروں کا کہنا کہ مسلم لیگ نون کا ووٹ قاف کو نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کوجائے گا اور یوں قاف کے امیدوار کو الٹا نقصان ہوگیا۔

فیصل آباد صنعتکاروں،مزدوروں اور نچلے متوسط طبقے کا شہر ہے اور دیہات کے مقابلے میں شہر میں سیاسی سوچ نسبتاً زیادہے۔ دیہات اور شہر کا یہ فرق انتخابی نتائج میں بھی نظر آئےگا۔

دیہی علاقے جاگیرداروں،خانوادوں،برادری ازم اور شخصیات کے نام پر ووٹ لیں گے۔ جھنگ میں شاہ جیونہ خاندان اور شور کوٹ گڑھ مہاراجہ حضرت سلطان باہو کے خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔اس بات کی اہمیت کم ہے کہ اس بار کون مسلم لیگی اور کون پی پی کا امیدوار ہے۔اصل بات یہ ہے کہ مرید کس کے ساتھ ہیں، کون سی برادری کس کو ووٹ دے رہی ہے۔

جھنگ سے فیصل صالح حیات مسلم لیگ قاف اور عابدہ حسین پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر متحارب ہیں جبکہ ان کی صاحبزادی صغری امام کا بھروانہ خاندان کی غلام بی بی بھروانہ سے مقابلہ ہے۔

سمندری میں ضلعی ناظم رانازاہد توصیف کے بھائی رانا آصف توصیف نون اور پی پی کے ٹکر کے امیدوار ہیں اور چک جھمرہ سے نون کے وکیل امیدوار کی دستبرداری کے بعد قاف اور پی پی کی آپس میں ٹکر ہے۔

پیر محل کمالیہ کی ایک نشست پر سپریم کورٹ کے معزول جج خلیل الرحمان رمدے کے بھائی اسدالرحمان مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر پیپلز پارٹی کے خالد احمد کھرل کے صاحبزادے حیدر کھرل کے مدمقابل ہیں اور دربار قادر بخش کے پیروکاروں نے حیدر کھرل کی حمایت کااعلان کیا ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آرائیں برادری چھائی ہوئی ہے اسی لیے پی پی، نون اور قاف تینوں کے امیدوار اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق بیوروکریٹ حفیظ اللہ اسحاق ہیں جو آصف زرداری کی ایک سوتیلی ماں کے رشتہ سے ان کے ماموں لگتے ہیں جبکہ مسلم لیگ کے متحارب دھڑوں کے امیدوار صنعتکار ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت دیہی سیاست پراس حد تک تو اثر انداز ہوئی ہے کہ پارٹی کا ووٹر نسبتا زیادہ جوش و خروش سے ووٹ ڈالنے آئے گا لیکن وسطی پنجاب کے دیہی سیاست پر شخصیات،براداری ازم اور درباروں کے گدی نشینوں کا اثرورسوخ ہی فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

کیانی’ہم ذمہ دار نہیں‘
کیانی کا بیان اور سیاسی حلقوں کے خدشات
احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
مائیکل گہلرغیر ملکی مبصرین
’ابتدائی رپورٹ الیکشن کے دو دن بعد دیں گے‘
عدلیہ کی ’بحالی‘
مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کی مختلف پالیسیاں
لال مسجد (فائل فوٹو)ووٹر بُھولے نہیں
’لال مسجد کی یاد ووٹروں کے ذہن میں تازہ ہے‘
بینظیر بھٹو’بینظیر قتل کے بعد‘
قوم پرستوں اور پیپلزپارٹی میں قربت کب تک؟
ٹیپسایک اور ریکارڈنگ
ملک قیوم کی انتخابی دھاندلی پرمبینہ ریکارڈنگ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد