BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 15 February, 2008 - Published 11:24 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھاندلی ہوگی:ملک قیوم کی’گفتگو‘

ملک قیوم
’میں نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی اور یہ (ریکارڈنگ) بدنیتی پر مبنی ہے: ملک قیوم
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم کی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ اپنی ویب سائٹ پر لگائی ہے جس میں اٹارنی جنرل کسی نامعلوم شخص کو آئیندہ ہونے والے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہونے کا بتا رہے ہیں۔ تاہم اٹارنی جنرل نے ’یہ ریکارڈنگ جعلی ہے‘ کہتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

اس ریکارڈنگ میں ملک قیوم مبینہ طور پر ایک نامعلوم شخص کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کس سیاسی جماعت سے امیدوار کی ٹکٹ کے لیے رجوع کریں۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ ’یہ ریکارڈنگ جعلی ہے۔ میں نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی اور یہ ریکارڈنگ بدنیتی پر مبنی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ ریکارڈنگ کاٹ کر بنائی ہے یا کیا کِیا ہے لیکن میں نے اس قسم کی احمقانہ بات کی ہی نہیں۔ ’نہ ہی میں نے ایسا کہا ہے اور نہ ہی میرا انتخابات سے کوئی تعلق ہے۔ نہ تو انتخابات کروا رہا ہوں اور نہ ہی لڑ رہا ہوں۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی یہ چیزیں بنا سکتے ہیں اور میں اس کی تردید کرتا ہوں۔‘

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈنگ اکیس نومبر کو میڈیا کے ایک نمائندے کے ساتھ انٹرویو کے دوران کی گئی تھی۔ تنظیم کے مطابق یہ ریکارڈنگ انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے ایک دن بعد کی گئی تھی۔

انتخابات آٹھ جنوری کو منعقد ہونے تھے لیکن سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد یہ انتخابات اب اٹھارہ فروری کو ہو رہے ہیں۔

اس ریکارڈنگ میں ملک قیوم کسی نامعلوم شخص کو کہہ رہے تھے کہ ’نواز شریف کو چھوڑو (وقفہ) میرے خیال میں نواز شریف انتخابات میں حصہ نہیں لے گا (وقفہ) اور اگر وہ حصہ لیتا بھی ہے تو پھنس جائے گا۔ اگر بینظیر انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو وہ بھی پھنس جائے گی۔ (وقفہ) یہ لوگ اپنے لوگوں کو جتوانے کے لیے وسیع پیمانے پر دھاندلی کریں گے۔ اگر ان لوگوں سے امیدوار کی ٹکٹ ملتی ہے تو لے لو (وقفہ) اگر نواز شریف خود واپس نہیں آتا تو پھر نواز شریف کو فائدہ ہے۔ اگر وہ واپس آتا ہے انتخابات کے بعد ہی سہی (وقفہ) ۔۔۔۔ ہاں۔‘

کوئی تعلق نہیں
 نہ ہی میں نے ایسا کہا ہے اور نہ ہی میرا انتخابات سے کوئی تعلق ہے۔ نہ تو انتخابات کروا رہا ہوں اور نہ ہی لڑ رہا ہوں۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی یہ چیزیں بنا سکتے ہیں اور اس کی تردید کرتا ہوں
اٹارنی جنرل ملک قیوم

واضح رہے کہ ملک قیوم ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں اور انہوں نے سنہ دو ہزار ایک میں استعفیٰ دیا تھا۔ اس وقت ان پر پیشہ ورانہ بد دیانتی کا الزام لگایا گیا تھا۔

ملک قیوم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کی بنچ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو کرپشن کے کیس میں سزا سنائی تھی۔

ان کو پانچ سال قید، چھیاسی لاکھ ڈالرجرمانہ، پارلیمانی ممبر بننے پر پانچ سال کی پابندی اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بینظیر بھٹو نے مارچ انیس سو ننانوے میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔

فروری دو ہزار ایک کو برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے بتیس ٹیپوں کی بنیاد پر ایک تفصیلی خبرشائع کی جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ملک قیوم نے بینظیر اور آصف کو سیاسی بناء پر سزا سنائی تھی۔

ان ریکارڈنگز میں ملک قیوم نواز شریف حکومت میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن سے سزا کے سلسلے میں حکم مانگ رہے ہیں۔ ملک قیوم نے پوچھا ’آپ بتائیں کہ آپ کتنی سزا دینا چاہتے ہیں اس (بینظیر) کو؟’

اس ریکارڈنگ کے سامنے آنے پر سپریم کورٹ نے بینظیر کی اپیل کے حق میں فیصلہ دیا اور ہائی کورٹ کی سزا ختم کردی۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک قیوم نے یہ فیصلہ سیاسی بناء پر دیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشہ ورانہ بد دیانتی کے الزامات سامنے آنے پر قیوم نے استعفیٰ دے دیا۔

ملک قیوم کو وفاقی حکومت نے معزول چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس میں وکیل بنایا۔ ملک قیوم اگست دو ہزار سات کو اٹارنی جنرل مقرر ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد