گرفتار کیا جا سکتا ہے: اٹارنی جنرل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم نے کہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو ان کی وطن واپسی پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ لندن میں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی دس ستمبر کو وطن واپسی کے اعلان کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت دی ہے، ان کی گرفتاری سے نہیں روکا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی اقدام اُٹھائے گی وہ قانون کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے خلاف نیب کے تین کیسوں کی سماعت دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے نواز شریف اور شہباز شریف کی وطن واپسی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان افراد کی وطن واپسی پر لائحہ عمل تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا حکومت شریف برادران کے خلاف جو بھی کارروائی کرے گی وہ قانون کے مطابق ہوگی۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف متعدد بیانات دے چکے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف ایک ڈیل کے تحت ملک سے باہر گئے تھے اس لیے انہیں اس کے تحت دس سال تک وطن واپس نہیں آنا چاہیے۔ |
اسی بارے میں کسی سےڈیل نہیں ہوئی: درانی 30 August, 2007 | پاکستان ’نواز وعدے کی پاسداری کریں‘29 August, 2007 | پاکستان وردی اتارنے پر رضامند: بینظیر29 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||