ملک قیوم نئے اٹارنی جنرل پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم کو نیااٹارنی جنرل پاکستان مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف مقدمے کے فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے استعفی دے دیا تھا لیکن اس کی تصدیق سرکاری طور پر منگل کو کی گئی۔ جسٹس ملک قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کااٹارنی جنرل بننے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا ’ سب تمہارا کرم ہے آقا کا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔‘ جسٹس (ریٹائرڈ) ملک قیوم نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کی تھی اور مقدمہ ہار گئے تھے۔ جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم کو سپریم کورٹ سے بینظیر بھٹو کے مقدمے میں ’متعصب‘ جج قرار دیئے جانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے مستعفی ہونا پڑا تھا جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں وکالت شروع کی۔ آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت صدر کسی ایسے وکیل کو پاکستان کا اٹارنی جنرل مقرر کر سکتا ہے جو سپریم کورٹ کا وکیل بننے کا اہل ہو۔ پاکستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کی طرف سے پہلی مرتبہ جسٹس ملک قیوم اور سپریم کورٹ کے جج راشد عزیز کو ’متعصب‘ جج قرار دیا گیا تھا۔ ملک قیوم نے اپنی اہلیت پر اٹھائے جانےوالے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا انہوں نے بطور جج خود استعفیٰ دیا تھا اور انہوں نے سپریم کورٹ کے ’یک طرفہ فیصلے‘ کو کبھی قبول نہیں کیا اور وہ اٹارنی جنرل بننے کے اہل ہیں۔ حکومت نے دو ڈپٹی اٹارنی جنرل ناہیدہ محبوب الہی اور راجہ ارشاد کو برطرف کر دیا ہے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق خود ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں ووٹروں نے فیصلہ کرنا ہے‘26 July, 2007 | پاکستان ریفرنس کالعدم، جسٹس افتخار بحال20 July, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل بدل سکتی ہے: قیوم12 July, 2007 | پاکستان ایک اور ڈپٹی اٹارنی جنرل مستعفی01 May, 2007 | پاکستان لنچ سے آزادی متاثر نہیں ہوتی: جج08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||