الیکشن: ابتدائی رپورٹ تین دن بعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کے لیے آئے ہوئے یورپی یونین کے مبصرین نے کہا ہے کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں ہے اور وہ پاکستان کی داخلہ پالیسیوں میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یورپی یونین مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے کراچی میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ وہ یورپی یونین کی خواہش پر یہاں آئے ہیں تاکہ اس جمہوری طریقہ کار کی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات کی نگرانی کا آغاز پولنگ سے کئی ہفتے قبل ہوتا ہے مگر ستائیس دسمبر کے واقعے بعد اس کے شیڈول میں نظر ثانی کی گئی۔ یورپی یونین کا مشن ایک سو مبصرین پر مشتمل ہے، جن میں قانونی اور انسانی حقوق کے ماہرین بھی شامل ہیں جو مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور نگران حکومت سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔ مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے بتایا کہ وہ طویل اور قلیل میعاد کی مبصرین کی مدد سے صورتحال کا معائنہ اور تجزیہ کر رہے ہیں اس کے بعد اس پر تبصرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابتدائی رپورٹ بدھ کو پیش کر دی جائے گی جبکہ حتمی رپورٹ اپریل کے وسط میں شائع ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان جماعتوں نے سیاسی مسائل کی نہیں بلکہ دھاندلی کی شکایات کی ہیں اور صرف متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار نے مسائل کی نشاندہی کی۔ مائیکل گہلر نے واضح کیا کہ دھاندلی اور غیر مناسب رویوں کی شکایت کا ازالہ اور انہیں متعلقہ حکام تک پہنچانا ان کا کام نہیں ہے وہ صرف شکایت نوٹ کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ اپنی شکایت متعلقہ حکام کی علم میں لائیں۔’مشن اپنی نگرانی کے وقت یہ دیکھے گا کہ ان شکایت کا کس قدر ازالہ کیا گیا اور اس کا ذکر اپنی رپورٹ میں کرے گا‘۔
مختلف سوالات کا جواب دیتے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک آزاد اور خودمختار مشن ہے جو کسی کے تابع نہیں اور یورپی یونین نے ان پر ذمے داری عائد کی ہے کہ صورتحال کا حقیقی جائزہ لیں اور اپنی رائے دیں اس حوالے سے یورپی یونین کے سات اراکین بھی جمعہ کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اچانک پولنگ سٹیشنوں کے دورے کریں گے، تاہم اگر کہیں کچھ غلط ہو رہا ہوگا تو اس میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے کیونکہ یہ ان کا کام نہیں ہے۔ مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے صوبہ سرحد کے حوالے سے کہا کہ وہاں انہوں نے خود کو محدود رکھا ہے، ویسے بھی وہ کسی بھی ملک کی سو فصید مانیٹرنگ نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا ایک رائے ہے کہ شرح ووٹنگ کم رہے گی اور صوبہ سرحد میں ووٹ دینے آنے والی خواتین حملوں کا نشانہ بن سکتی ہیں اس لیے مجموعی طور پر اور خاص طور خواتین کا شرح ووٹ کم رہنے کا امکان ہے مگر ایک رائے یہ بھی ہے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد زیادہ ووٹر باہر نکلیں گے۔ | اسی بارے میں انتخابات: دو الگ الگ تحریکیں08 February, 2008 | الیکشن 2008 ’انتخابات شفاف نہیں ہونگے‘11 February, 2008 | الیکشن 2008 کراچی، امن و امان کے خدشات12 February, 2008 | الیکشن 2008 پنجاب: متحدہ کی انتخابی سرگرمیاں13 February, 2008 | الیکشن 2008 ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی کا فیصلہ13 February, 2008 | الیکشن 2008 کیانی اور سیاسی حلقوں کے خدشات14 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||