کیانی اور سیاسی حلقوں کے خدشات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند روز پہلے کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے کہا تھا کہ انتخابات شفاف بنانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے اور فوج کا کام صرف امن امان قائم کرنا ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف نوعیت کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ اس بیان کے بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ فوج انتخابات کے موقع پر فسادات کو روکے گی اور کسی کو بھی من مانی نہیں کرنے دے گی۔ جبکہ بعض تنقید کار کہتے ہیں کہ آرمی چیف کا یہ بیان خاصا مبہم ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اگر کوئی پولنگ کے اندر ڈبے بھرے اور اس کا مخالف امیدوار اگر انہیں روکے اور اس کے نتیجے میں کوئی تصادم ہو تو کیا فوج صرف تصادم کرنے والے کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرے گی یا ڈبے بھرنے والے کو بھی روکے گی؟ آرمی چیف سینئر صحافیوں سے بات چیت میں زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ فوج کا کام صرف امن امان تک محدود ہوگا اور وہ سویلین حکومت کی مدد کریں گے۔ اگر دیکھا جائے تو مرکز اور چاروں صوبوں میں نگران حکومتیں مسلم لیگ (ق) اور ان کے حامیوں کا ایک تسلسل ہے اور اس بارے میں حزب مخالف کی اکثر جماعتیں اعتراضات بھی کر چکی ہیں۔
سندھ کے بعض علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے کچھ امیدواروں نے تو اپنے حامیوں سے کہنا شروع کردیا ہے کہ فوج اور رینجرز ان کی مدد کے لیے آرہی ہے۔ جب سے صدر پرویزمشرف نے آرمی کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کی اس کے بعد نئے آرمی چیف نے سویلین محکموں سے فوجی افسران کو واپس بلانے، فوجی افسران کو سیاستدانوں سے میل جول سے دور رہنے اور مسخ شدہ فوجی روایات کی بحالی کے بارے میں بیانات دے چکے ہیں۔ ان کے بیانات کو سیاسی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی اور بعض مبصرین نے تو یہ بھی کہنا شروع کیا کہ جنرل کیانی کے اقدامات صدر پرویز مشرف کی اس بارے میں پالیسی کی نفی کرتے ہیں۔ لیکن انتخابات کو شفاف بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، فوج کا انتخابات سے واسطہ نہیں اور فوج صرف سویلین حکومت کی مدد کے لیے امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری نبھائے گی، کے تواتر سے آنے والے بیانات نے ایک نئے خدشے کو بھی جنم دیا ہے۔ آرمی چیف کے بیان اور اس پر ظاہر کیے جانے والے خدشات کی وضاحت کے بارے میں جب فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ اٹھائیس ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس اور حساس قرار دے چکی ہے جہاں فوج، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے دستے تعینات کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ حساس پولنگ سٹیشنوں کی تعداد ملک بھر میں انتخابات کے لیے مقرر کردہ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد کے تقریبا نصف کے قریب ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||