BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 14 February, 2008 - Published 10:32 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیانی اور سیاسی حلقوں کے خدشات

جنرل کیانی
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی کے اقدامات صدر پرویز مشرف کی پالیسی کی نفی کرتے ہیں
چند روز پہلے کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے کہا تھا کہ انتخابات شفاف بنانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے اور فوج کا کام صرف امن امان قائم کرنا ہے۔

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف نوعیت کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

اس بیان کے بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ فوج انتخابات کے موقع پر فسادات کو روکے گی اور کسی کو بھی من مانی نہیں کرنے دے گی۔

جبکہ بعض تنقید کار کہتے ہیں کہ آرمی چیف کا یہ بیان خاصا مبہم ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اگر کوئی پولنگ کے اندر ڈبے بھرے اور اس کا مخالف امیدوار اگر انہیں روکے اور اس کے نتیجے میں کوئی تصادم ہو تو کیا فوج صرف تصادم کرنے والے کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرے گی یا ڈبے بھرنے والے کو بھی روکے گی؟

آرمی چیف سینئر صحافیوں سے بات چیت میں زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ فوج کا کام صرف امن امان تک محدود ہوگا اور وہ سویلین حکومت کی مدد کریں گے۔

اگر دیکھا جائے تو مرکز اور چاروں صوبوں میں نگران حکومتیں مسلم لیگ (ق) اور ان کے حامیوں کا ایک تسلسل ہے اور اس بارے میں حزب مخالف کی اکثر جماعتیں اعتراضات بھی کر چکی ہیں۔

رینجرز
وفاقی حکومت حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوج، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے دستے تعینات کرنے کا اعلان کرچکی ہے
ایسے میں فوجی سربراہ کا یہ کہنا کہ ان کا کردار سول حکومتوں کی مدد کرنا ہے تو اس سے تو حزب مخالف کے ان خدشات کو مزید تقویت پہنچتی ہے کہ صدر مشرف کے حامیوں کو انتظامیہ جتوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سندھ کے بعض علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے کچھ امیدواروں نے تو اپنے حامیوں سے کہنا شروع کردیا ہے کہ فوج اور رینجرز ان کی مدد کے لیے آرہی ہے۔

جب سے صدر پرویزمشرف نے آرمی کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کی اس کے بعد نئے آرمی چیف نے سویلین محکموں سے فوجی افسران کو واپس بلانے، فوجی افسران کو سیاستدانوں سے میل جول سے دور رہنے اور مسخ شدہ فوجی روایات کی بحالی کے بارے میں بیانات دے چکے ہیں۔

ان کے بیانات کو سیاسی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی اور بعض مبصرین نے تو یہ بھی کہنا شروع کیا کہ جنرل کیانی کے اقدامات صدر پرویز مشرف کی اس بارے میں پالیسی کی نفی کرتے ہیں۔

لیکن انتخابات کو شفاف بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، فوج کا انتخابات سے واسطہ نہیں اور فوج صرف سویلین حکومت کی مدد کے لیے امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری نبھائے گی، کے تواتر سے آنے والے بیانات نے ایک نئے خدشے کو بھی جنم دیا ہے۔

آرمی چیف کے بیان اور اس پر ظاہر کیے جانے والے خدشات کی وضاحت کے بارے میں جب فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ اٹھائیس ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس اور حساس قرار دے چکی ہے جہاں فوج، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے دستے تعینات کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ حساس پولنگ سٹیشنوں کی تعداد ملک بھر میں انتخابات کے لیے مقرر کردہ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد کے تقریبا نصف کے قریب ہے۔

بینظیر بھٹورائے عامہ کے جائزے
امریکی سروے رپورٹوں میں تیر کا پلہ بھاری
پرویز الہیٰگھرگھر چیک تقسیم
’پری پول رگنگ‘ پر نون لیگ کا حقائق نامہ جاری
جاوید ہاشمیسہ رخی انتخابی جنگ
شاہ محمود، ہاشمی اور رائے کے درمیان معرکہ
مشترکہ یا جداگانہ
اقلیتی ووٹروں کے لیے کونسا نظام بہتر؟
چارسدہانتخابات سے پہلے
مشرف مخالف ہی بم حملوں کا نشانہ کیوں؟
متحدہ تخت لاہور پر نظر
پنجاب میں متحدہ کی انتخابی سرگرمیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد