مسعود عالم بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | انتخابی دھاندلی کا آغاز پولنگ کے دن سے بہت پہلے ہو جاتا ہے |
پاکستان میں انتخابی دھاندلی تب سے ہو رہی ہے جب سے ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے شروع ہوئے۔ سن انیس سو ستر میں ہونے والے پہلے عام انتخابات سے لے کر سن دو ہزار دو تک کوئی الیکشن ایسا نہیں گزرا جس میں عوامی رائے کو یکسر مسترد کرنے یااس میں رد و بدل کرنے کا الزام نہ لگا ہو۔ پاکستان میں انتخابی دھاندلی کا آغاز ووٹنگ کے دن سے بہت پہلے ہو جاتا ہے۔ مروجہ طریقہ کار، جس میں تبدیلی بھی کم ہی ہوتی ہے، یہ ہے کہ نگراں حکومت میں جانبدار لوگوں کو جگہ دی جائے، الیکشن کمشن اور اعلیٰ عدالتوں میں مرضی کے جج مقرر کیے جائیں، انتخابی عملے میں کسی ایک جماعت یا گروہ کے حامیوں کو بھرتی کیا جائے، میڈیا پر پابندیاں ہوں، اور سرکاری مشینری، عہدوں اور فنڈز کو کسی ایک گروہ کی حمایت یا دوسرے کی مخالفت میں استعمال کیا جائے۔ انیس سو ستر اور ستتر کے انتخابات میں، جب حکومتی عہدیدار ابھی دھاندلی کرنا سیکھ ہی رہے تھے، قبل از انتخابات اقدامات پر زیادہ زور نہیں تھا، اور نتائج کو بدلنے کے لیے انتخاب کے دوران جعلی ووٹوں اور بعد میں زور زبردستی سے کام لیا جاتا رہا۔ تاہم 1985 سے لے کر حالیہ 2008 کی الیکشن مہم تک قبل از انتخاب دھاندلی کی شرح مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ اس حوالے سے جنرل مشرف کے زیر نگرانی کروائے گئے 2002 کے الیکشن کو مبصرین سب سے زیادہ غیر منصفانہ مانتے ہیں۔ گیلپ پاکستان کے چیرمین اور انتخابی عمل پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی بتاتے ہیں کہ آخری الیکشن میں قبل از انتخاب دھاندلی مختلف شکل میں ہوئی۔  | | | اپوزیشن کی شکایات پر الیکشن کمشن بے ضابطگی کے ملزمان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے قاصر رہا | انہی اصولوں پر حالیہ انتخابات کو جانچا جائے تو کچھ ملی جلی سی صورتحال سامنے آتی ہے۔ دونوں بڑی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ملک واپسی کی اجازت تو دے دی گئی، لیکن غیر ملکی رابطوں کے توسط سے یہ شک بھی عوامی حلقوں میں عام کیا گیا کہ دونوں رہنما صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی کھل کر مخالفت نہیں کریں گے۔ نگراں حکومت اور الیکشن کمشن کو سبھی اپوزیشن جماعتیں پہلے روز سے جانبدار کہتی آ رہی ہیں اور الیکشن کے اعلان سے پہلے جنرل مشرف نے یہ اہتمام بھی کیا کہ ایمرجنسی لگا کر میڈیا پر اپنی گرفت مضبوط کی اور اعلیٰ عدلیہ کے ساٹھ سے زائد ججوں کو غیر آئینی طریقے سے ہٹا کر ان کی جگہ اپنی پسند کے جج بٹھا دیئے گئے۔ انتخابات کو شفاف بنانے کے حکومتی دعوے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے الیکشن کمشن نے جو احکامات جاری کیے ان میں ملکی وسائل کو انتخابی عمل میں استعمال کرنے کی ممانعت اور انتخابی عمل مکمل ہونے تک سرکاری افسروں کے تبادلوں پر پابندی شامل ہے۔ لیکن ان احکامات پر عملدرآمد تو کیا ہوتا، جب ان کی خلاف ورزیوں پر شکایات کی گئیں تو بھی الیکشن کمشن بے ضابطگی کے ملزمان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے قاصر رہا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے تازہ ترین بیان میں الیکشن کمشن آف پاکستان کو جانبدار قرار دیا ہے، اور اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ کمیشن انتخابات کو شفاف بنانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اپوزیشن امیدواروں کی جانب سے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ شکایات الیکشن کمشن تک پہنچائی گئی ہیں۔ ان کی اکثریت نگراں حکومت کی جانب سے ق لیگ کے امیدواروں کی مدد اور اپوزیشن امیدواروں کی مخالفت سے متعلق ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ان شکایات کے ازالے کے لیے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا جس سے کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے تو صرف سوال ہی اٹھایا ہے، کچھ غیر ملکی انتخابی مبصرین نے تو یہ کہہ کر انتخابات کی نگرانی کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے کہ دھاندلی تو ہو بھی چکی، ہم آ کر کیا کریں؟ ان میں امریکی تنظیمیں آئی آر آئی، این ڈی آئی اور کارٹر سینٹر شامل ہیں۔ امریکہ ہی کی ایک پارلیمینٹیرین اور بیرونی آپریشنز کی سب کمیٹی کی سربراہ، نیتا لوئی نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اٹھارہ فروری کے انتخاب کی نگرانی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے کیونکہ انہیں جنرل مشرف کی حکومت سے جمہوری اقدار کی پاسداری کی توقع کم کم ہی ہے۔ |