عدلیہ کی بحالی پر’واضح تفریق‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اٹھارہ اکتوبر کی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ مسائل اتنے ہیں کہ کوئی امیدوار ووٹروں کو گیس سپلائی اور سڑکیں گلیاں بنا کر دینے کے وعدے کر رہا ہے تو کوئی صدر مشرف کو پچھاڑنے پر تلا ہے۔ لیکن تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی کی بات موجودہ وقت میں انتخابات میں حصہ لینے والی صرف مسلم لیگ (ن) یا پھر بائیکاٹ کرنے والی اے پی ڈی ایم ہی کر رہی ہے۔ عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی عدلیہ کی بحالی کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں میں واضح تفریق سامنے آچکی تھی۔ اگر پیپلز پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سابق ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرنے سے کترا رہی تھیں تو مسلم لیگ نون اور اے پی ڈی ایم اس کا برملا تقاضہ کرتی نظر آئیں۔ یہی رحجان ان جماعتوں اور اتحادوں کی انتخابی مہم میں بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم نے سابق عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کر رکھا ہے لیکن انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ سے آئندہ پارلیمان میں نہیں ہوگی۔ لہذا اس کا پارلیمان کے اندر کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن اسے اس مسئلہ پر کافی عوامی حمایت حاصل ہے۔ ایسے میں مسلم لیگ نواز ملک کی ان بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے جو انتخابات میں حصہ بھی لے رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ سابق عدلیہ کی بحالی کا پرزور مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ اس کے امیدوار اپنے انتخابی جلسے جلوسوں میں سابق ججوں کا موضوع زندہ رکھے ہوئے ہے۔
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی وجہ سے جیل سے باہر آنے والے مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اپنے انتخابی جلسوں میں اس موضوع کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں اور جلسے میں موجود لوگوں کی تالیاں اس وعدے کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہوتی ہیں۔ جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ اس موضوع کے حوالے سے جس قسم کی حمایت اور ردعمل انہیں مل رہا ہے اس کی انہیں اس سے قبل توقع بھی نہیں تھی۔ ’لوگوں میں کافی تشویش ہے۔ دیہات میں بھی لوگ اس سے آگاہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر چیف جسٹس بحال نہ ہوئے تو یہ ملک سپریم کورٹ کے بغیر رہے گا اور انہیں انصاف نہیں ملے گا‘۔ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہمدردی ووٹ کی توقع کرنے والی پیپلز پارٹی اب بھی اس مسئلے پر بات کرنے سے کترا رہی ہے۔ اس کا پالیسی بیان یہی ہے کہ جب وقت آئے گا تو اس کا فیصلہ کریں گے۔ پی پی پی پنجاب کے صوبائی صدر مخدوم شاہ محمود قریشی سے جب پوچھا گیا کہ وہ کن مسائل پر اپنی جلسوں میں بات کر رہے ہیں تو انہوں نے عدلیہ کے علاوہ تقریباً تمام موضوعات گنوا دیئے۔ ’دہشت گردی ہے، مہنگائی ہے، جماعتوں کو تقسیم کرنا، فوج کا کردار کیا ہونا چاہیے وغیرہ‘۔ بی بی سی سروے سے سامنے آنی والی عوامی توقعات کے برعکس عدلیہ کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کے مبہم موقف کی وجہ سے نئی پارلیمان کی جانب سے سابق عدلیہ کی بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ | اسی بارے میں مشرف جائے، جسٹس آئے: سروے13 February, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی: نواز لیگ کا حلف07 February, 2008 | پاکستان ’سب سے پہلے ججوں کی بحالی‘08 February, 2008 | الیکشن 2008 ’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں‘12 February, 2008 | پاکستان ویلنٹائن ڈے پر خلیل رمدے ڈے14 February, 2008 | پاکستان پاکستان جرنیلوں کے لیے نہیں بنا:شریف10 February, 2008 | الیکشن 2008 ’انتخابات شفاف نہیں ہونگے‘11 February, 2008 | الیکشن 2008 لال مسجد آپریشن، ووٹر ابھی بھُولے نہیں14 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||