ویلنٹائن ڈے پر خلیل رمدے ڈے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر کی وکلاء تنظیموں نے جمعرات کو عدلیہ کی بحالی، نظربند ججوں اور وکلاء رہنماؤں کی رہائی کے لیے یومِ رمدے منایا۔ سپریم کورٹ کے برطرف کیے گئے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے نام پر منائے جانے والے اس دن کے موقع پر پورے ملک میں وکلاء تنظیموں نے احتجاجی اجلاس کیے اور جلوس نکالے۔ وکلاء برادری کے احتجاج میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی کے اراکین اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے حصہ لیا۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس کے بعد وکلاء نے جلوس نکالا جو ایوان عدل سے شروع ہوا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے ختم ہوگیا۔ اس کے علاوہ ضلعی بار ایسوسی ایشن اور ہائیکورٹ بار کے الگ الگ اجلاس ہوئے۔ ضلعی بار ایسوسی ایشن کا جلوس جب لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پہنچا تو ہائی کورٹ کے وکلاء بھی جلوس میں شامل ہوگئے۔ وکلاء کے جلوس میں سول سوسائٹی کے ارکان کے علاوہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے شرکت کی ۔ جلوس میں جسٹس افتخار محمد چودھری کے خسر غلام رسول اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نعیم قریشی وکلاء کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے جلوس میں شامل ہوئے۔
مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر عدلیہ کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف عبارتیں درج تھیں، جبکہ وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اور لاہور ہائیکورٹ کے نئے ایڈشینل جج جسٹس احسن بھون کے خلاف بھی زبردست نعرے لگائے۔ مظاہرین مال روڈ پر مسلم لیگ قاف کے امیدوار کے بینرز کو اتار کر پھاڑ دیا۔ جلوس میں اعلٰی عدلیہ کے سابق ججوں نے بھی شرکت کی۔ سکریٹری کراچی بار ایسوسی ایشن نعیم قریشی نے کہا کہ ملک بھر کے وکلاء متحد ہیں اور ایک دو وکلاء کے جج بننے سے تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے وکلاء رہنماؤں کے خطاب کے بعد وکلاء جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ پر اکٹھے ہوئے اور جسٹس رمدے کی اہلیہ کو پھول پیش کیے۔ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وکلاء نے کراچی میں ہڑتال کی اور احتجاجی ریلی نکالی۔ سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء کی احتجاجی ریلی میں شامل وکیلوں نے سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے سامنے نعرے لگائے۔ کراچی میں سٹی کورٹس کے باہر وکلاء کی احتجاجی ریلی پر فائرنگ ہوئی تاہم اس فائرنگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ تاہم وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ کا ٹارگٹ وکیل ہی تھے۔ پشاور میں بی بی سی اردو کے نمائندے عبدالحی کاکڑ کے مطابق وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور پشاور ہائی کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے عدلیہ کی آزادی کے حق اور صدر مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج بیس فروری تک جاری رہے گا اور اس کے بعد آئندہ کا لائحہ ترتیب دیا جائے گا۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کے مطابق وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ |
اسی بارے میں عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ شروع11 February, 2008 | پاکستان ہفتہ بھرعدالتوں کا مکمل بائیکاٹ10 February, 2008 | پاکستان وکلاء رہنما سمیت دس جج تعینات09 February, 2008 | پاکستان اسلام آباد: سینکڑوں وکلاء کا احتجاج09 February, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی: نواز لیگ کا حلف07 February, 2008 | پاکستان انتخابات لڑنے پر رکنیت منسوخ07 February, 2008 | پاکستان ’جج کی عدالت پر ہلہ‘: مقدمے درج07 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||