BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جج کی عدالت پر ہلہ‘: مقدمے درج

سرحد بارکونسل اور سرحد کی تمام ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز کا ایک ہنگامی اجلاس جمعہ کو پشاور میں طلب کیا گیا ہے
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس حامد درانی کی عدالت پر مبینہ طورپر ہلہ بول کر کنڈے توڑنے کے الزام میں ہائی کورٹ کے پندرہ وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کا ایک گروپ جسٹس حامد درانی کی عدالت کے سامنے جمع ہوا اور بعض وکلاء کو پیشہ وارانہ فرائص سے روکنے کی کوشش کی اور کار سرکار میں مداخلت کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق وکلاء نے جسٹس حامد درانی کی عدالت کا کنڈا توڑا اور عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو وکلاء نوید مقصود اور سکینہ فدا ایڈوکیٹ مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں عدالت میں داخل ہورہے تھے کہ اس دوران وکلاء کا ایک گروپ آیا اور وہاں
احتجاج اور نعرہ بازی شروع ہو گئی۔

شرقی تھانہ کے ایک پولیس اہلکار طارق حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار محمد ابراہیم خان کے کہنے پر پندرہ وکلاء کے خلاف کے ایف آئی ار درج کرائی گئی ہے جن میں پشاور ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس شاہ جہان خان کے صاحبزادے بابر خان یوسفزئی، سرحد بارکونسل کے ممبر قیصر رشید، سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر مسرت ہلالی، مسلم لائرز فورم کے صدر عبدالستار خان، بہلول خٹک ایڈوکیٹ، عائشہ ملک، اظہر یوسف، اشفاق یوسفزئی، یاسر خٹک، برسٹر مدثر یاسر، امیر ایڈوکیٹ، شاہ فیصل اور ایاز خان ایڈوکیٹ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ اور سرحد بارکونسل کے وکلاء تین نومبر سے عدالتوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔

قبل ازیں صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی معزولی کے بعد پشاور میں وکلاء کی تنظیموں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

وکلاء نے دھمکی دی تھی کہ اگر کوئی وکیل پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش ہوا تو ان کی ممبرشپ ختم کردی جائی گی۔

ادھر سرحد بارکونسل کے ممبر قیصر رشید خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے بائیکاٹ کے سلسلے میں سرحد بارکونسل اور سرحد کی تمام ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز کا ایک ہنگامی اجلاس جمعہ کو پشاور میں طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھنے یا اسے ختم کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔

واضح رہےکہ دو دن قبل ہائی کورٹ کے بعض وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی تھی جس میں وکلاء نے عدالتوں میں پیش ہونے کی صورت میں تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج(فائل فوٹو)غلامی پر ضمیر بھاری
’عدلیہ کی اکثریت کیلیے ضمیر کی آواز اہم ہے‘
ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
گورنر سرحد گورنر سرحد نے کہا
مغویوں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
اسی بارے میں
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘
07 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد