BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 February, 2008, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: سینکڑوں وکلاء کا احتجاج

جلوس کے شرکاء کے مطابق اس مرتبہ استعمال کی جانے والی آنسو گیس بہت شدید تھی
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے کو پولیس نے سینکڑوں وکلاء پر مشتمل جلوس کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھر جانے سے روکنے کے لیے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔

سینکڑوں وکلاء اور شہری حقوق کے کارکن اعتزاز احسن کی رہائش گاہ سے بڑے جلوس کی شکل میں معزول چیف جسٹس کی رہائش گاہ کے لیے روانہ ہوئے اور جیسے ہی بلوچستان ہاؤس پہنچے تو پولیس نے انہیں روک دیا۔

پولیس کی بچھائی ہوئی خاردار تاروں کو جب وکلاء نے ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس نے فائر برگیڈ سے وکلا پر پانی پھینکا۔ سخت سردی کے باوجود بھی جب وکلا پیچھے نہ ہٹے تو اس دوران پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی۔

اس سے قبل ایک کنونشن میں وکلاء نےاٹھارہ فروری کو انتخاب کے دن تک عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔

کنونشن میں متعدد قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں اور معزول ججوں کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کنونشن میں ایک قرار داد کے ذریعے ان وکلاء رہنماؤں کی مذمت کی گئی جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔


کنونشن سے جسٹس وجیہہ الدین اور منیر اے ملک نے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ انہوں نے وکلاء سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مسلم لیگ نواز کی طرح اپنے امیدواروں سے ججوں کی بحالی تک جدوجہد کرنے کا حلف لیں۔

وکلاء کنونشن کے بعد ایک جلوس کی صورت میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ افتخار محمد چودھری اپنی معزولی کے بعد سے اپنے سرکاری گھر پر نظر بند ہیں۔

بلوچستان ہاؤس کے قریب جج کالونی کی طرف سے جانے والے راستے پر قائم پولیس چوکی پر جلوس کو روک لیا گیا۔ اس جگہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

وکلاء نے ہاتھوں میں بینز اٹھا رکھے ہوئے تھے اور وہ بہت جوش میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ سخت سردی میں نعرے لگاتے ہوئے وکلاء پر پولیس نے پہلے آگ بجھنے والے ٹینکروں سے تیز دھار پانی پھیکا۔

تیز دھار پانی سے پولیس نے ان وکلاء کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں منشتر نہ کر سکی جس کے بعد آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور شدید شیلنگ کی گئی۔

وکلاء کی طرف سے پولیس پر پھتراؤ کیا گیا۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے وکلاء ذیلی سڑکوں اور گلیوں میں منتشر ہو جاتے لیکن تھوڑی دیر میں مختلف گروپوں کی صورت میں دوبارہ نعرے بازی کرتے ہوئے سپر مارکیٹ سے سکریٹریٹ کو ملانے والی سڑک پر نکل کر پولیس پر پتھراؤ کرتے اور یہ آنکھ مچولی کافی دیر تک جاری رہی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد