BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 January, 2008, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں وکلاء کا ’یومِ افتخار‘

رانا بھگوان داس، وکلاء
معزول جسٹس رانا بھگوان داس نے بھی وکلاء کے احتجاج میں شرکت کی
پاکستان بھر کی وکلاء تنظیموں نے جمعرات کو ججوں کی بحالی، صدر مشرف کے استعفے، نظر بند اور گرفتار شدہ ججوں اور وکلاء کی رہائی کے حوالے سے’یومِ افتخار‘ منایا ہے۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے نام پر منائے جانے والے دن کے موقع پر پورے ملک میں وکلاء کی تنظیموں نے احتجاجی جلسے اور جلوس منعقد کیے ہیں۔

کراچی سے بی بی سی اردو کے نمائندے ارمان صابر کے مطابق معزول جج رانا بھگوان داس نے یومِ افتخار کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ پہلی بار ہے کہ جسٹس چودھری افتخار کے تاریخی کارناموں کی وجہ سے ان کی زندگی میں ہی یومِ افتخار منایا جارہا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے اس سے پہلے مشاہدہ یہ کیا ہے کہ ہماری پاکستانی قوم مردہ پرست ہے اور اچھے لوگوں کے چلے جانے اور مرحوم ہونے کے بعد ان کی یاد میں جلسے، سیمنار اور ورکشاب کرائے جاتے ہیں لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ چودھری افتخار محمد کی آزادی، سربلندی اور بحالی کے لیے اور ان کے اچھے اور تاریخی کارناموں کی وجہ سے ان کی زندگی میں ہی ان کا دن منایا جارہا ہے‘۔

رانا بھگوان داس سمیت تمام عہداران نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلاء کی جدوجہد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گی اور تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال ہوگی جبکہ خلافِ آئین اقدامات اٹھانے والے اور ان کا ساتھ دینے والے انہی عدالتوں میں پیش ہوں گے۔

تین نومبر کے بعد سے وکلاء کی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا

اجلاس میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے ہائی کورٹ، سٹی کورٹس اور ملیر کورٹس کے محاصرے کی قرارداد کے ذریعے مذمت کی گئی، دوسری قرارداد میں معزول جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے رفقاء کی نظر بندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ تیسری قرارداد میں چودھری اعتزاز احسن سمیت دیگر وکلاء کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس کے بعد وکلاء کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ سے ایک ریلی نکالی گئی جو کراچی پریس کلب کے باہر اختتام پذیر ہوئی جہاں پہلے ہی سول سوسائٹی کے ارکان یومِ افتخار کے حوالے سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر مظاہرہ کررہے تھے۔ریلی کے شرکاء سے وکلاء اور سول سوسائٹی کے سرکردہ اراکین نے خطاب کیا جبکہ ریلی کے شرکاء نے نعرے بازی بھی کی۔

اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری ہائی کورٹ کے چاروں اطراف اور ریلی کے روٹ پر تعینات کی گئی تھی۔ تاہم کوئی ناخوشگور واقعہ پیش نہیں آیا اور ریلی کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

راولپنڈی،اسلام آباد

اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق راولپنڈی میں وکلاء نے احتجاجی ریلی نکالی جو کچہری چوک سے شروع ہو کر مریڑ چوک پر ختم ہوئی۔ ریلی میں شامل وکلاء نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کے حق میں نعرے درج تھے۔

 وکلاء کا احتجاج(فائل فوٹو)
وکلاء جسٹس افتخار اور دیگر ججوں کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے(فائل فوٹو)

اس سے پہلے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء کا ایک اجلاس بھی ہوا جس سے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کی اہلیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پرویز مشرف کو دس بار صدر منتخب کروانے کے دعوے کر رہے تھے ان کے یہ تمام دعوے وکلاء تحریک کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ان کے شوہر نظر بندی کے دوران سخت علیل ہیں اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال شفٹ کیا جائے لیکن حکومت ایسا نہیں کرنے دے رہی۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سولہ کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں اور ان کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک کامیاب ہوگی۔ انہوں نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی بھی ٹی وی چینل پر آجائیں جبکہ اس مناظرے میں وکلاء کی نمائندگی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کریں گے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد بار میں بھی وکلاء نےاحتجاجی مظاہرہ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

لاہور

لاہور سے بی بی سی کے نمائندے عباد الحق کے مطابق ’یومِ افتخار کے موقع پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں بھی وکلاء نے ایوانِ عدل سےاحتجاجی ریلی جس میں لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلا کی ریلی بھی شامل ہو گئی۔

ریلی کےشرکاء نے صدر مشرف کا پتلا نذرِ آتش کیا اور عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ شرکاء نے معزول چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی تصاویر اور بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔

ریلی میں سابق ججوں اور سینئر وکلاء کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر حامد خان ایڈوکیٹ نے اعلان کیا کہ پاکستان بار کونسل کے زیرِ اہتمام نو فروری کو اسلام آباد میں ملک گیر وکلاء کنونشن منعقد کیا جائےگا اور اس میں حصہ لینے والے تمام وکلاء کنونشن کے بعد چیف جسٹس کے گھر کی جانب مارچ کریں گے۔

ریلی کے موقع پر سکیورٹی سے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جلوس کے راستے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

وکلاء پر پولیس کی شیلنگوکلاء کا مظاہرہ
اسلام آباد میں مظاہرے پر پولیس شیلنگ
وکلاء کی ہڑتال
’اقتصادی مشکلات کے باوجود تحریک جاری‘
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
اسی بارے میں
احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج
20 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد