کرد کی نظر بندی میں مزید توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بار کونسل کے سابق نائب چئرمین علی احمد کرد کی نظر بندی میں تیسری مرتبہ ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے جس کے خلاف وکلاء نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علی احمد کرد نے بتایا ہے کہ ان کے نظر بندی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بارہ بجے ختم ہونی تھی لیکن اس سے پہلے سیکرٹری داخلہ کی جانب سے ایک اور پروانہ انہیں موصول ہوا ہے جس کے مطابق ان کی نظر بندی میں مزید ایک ماہ کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے کیونکہ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ان کی نظر بندی میں توسیع کی جارہی ہے جبکہ اس کے لیے ہائی کورٹ کے سامنے نظر ثانی بورڈ پیش کرنا ضروری ہے لیکن حکومت کی جانب سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اگر علی احمد کرد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریص گے۔ علی احمد کرد نے بی بی سی کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری نہیں ہے اور ناں ہی وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ان ججوں کے سامنے پیش ہونے کا سوچ سکتے ہیں جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔ علی احمد کرد کو تین نومبر کو ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے فورا بعد اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ ریل گاڑی سے کوئٹہ آرہے تھے۔ انھیں جہلم اور راولپنڈی میں حکومت پنجاب کے احکامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا پھر کوئٹہ لایا گیا جہاں بلوچستان پولیسں نے گرفتار کر لیا تھا۔ | اسی بارے میں کراچی کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ10 May, 2007 | پاکستان لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘ 20 June, 2007 | پاکستان منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ10 May, 2007 | پاکستان ’مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی‘28 August, 2007 | پاکستان ’مارشل لاء دفن کرنا آسان نہیں‘22 October, 2007 | پاکستان ’جنرل کیانی تین نومبر کی عدلیہ بحال کر سکتے ہیں‘20 December, 2007 | پاکستان ’نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘20 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||