BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء ریلی، لاٹھی چارج، چھ زخمی

چند وکلاء سابق چیف جسٹس کی رہائش گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ جمعرات کو اسلام آباد میں اظہار یکجہتی کرنے والے وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان پر ہونے والے لاٹھی چارج اور آنسوگیس کی شیلنگ کی وجہ سے چھ افراد زخمی ہوگئے۔


اس واقعہ کے بعد مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے ان کی لاٹھیاں اور ٹوپیاں بھی چھین لیں جنہیں بعدازاں نذر آتش کردیا گیا۔

راولپنڈی، اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے وکلاء نے جمعرات کے روز عدلیہ کی آزادی اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی اور گھروں میں نظر بند کیے گئے وکلاء کی رہائی کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین پہلے سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن کی رہائشں گاہ ہر اکھٹے ہوئے جہاں سے وہ معذول چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کے لیے ججز کالونی جا رہے تھے کہ پولیس نے ان کو روکنے کے لیے مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی بجائے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی جس سے متعدد مظاہرین بےہوش ہوگئے۔

مظاہرین نے اس اشک آور گیس کے شیل دوبارہ پولیس اہلکاروں کی طرف پھینکے چونکہ ہوا کا رخ اُس طرف تھا جہاں پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔ جس کی وجہ سے پولیس اہلکار وہاں سے بھاگ گئے اور اس دوران چند وکلاء معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رہائش گاہ تک پہنچ گئے تاہم وہاں پر موجود رینجرز کے اہلکاروں نے انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بلوچستان ہاؤس کے باہر پولیس ناکے کے قریب تقاریر کیں جس میں انہوں نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے تمام اداروں کو تباہ کردیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر سردار عصمت اللہ نے کہا سابق آرمی چیف نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت متعدد ججوں کو اس لیے زبردستی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ عدلیہ انہیں وردی میں رہتے ہوئے دوبارہ صدر منتخب نہیں ہونے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو ان کے عہدوں پر بحال نہیں کردیا جاتا اس وقت تک وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ معزول کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فیصل آباد بار کے صدر سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے پاکستان بار کے فیصلے کو مسترد کرنے کو کہا تھا جس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش ہونے اور ہفتے میں ایک دن کی مکمل ہڑتال کرنے کو کہا گیا تھا۔

فیصل آباد بار کے صدر کے مطابق معزول چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ ان عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔

لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے سلسلے میں مہم چلانے والی آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری کو اس لیے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے سلسلے میں فوج کے جرنیلوں کو عدالت میں طلب کرنے والے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسی فوج کو نہیں مانتے جو اپنے ہی ملک کے باشندوں کو زبردستی حراست میں رکھتی ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کرنے کے بعد سب سے زیادہ متاثر لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان ہوئے ہیں جن کا اب کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

اسی بارے میں
احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج
20 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد