پاکستان اور بین الاقوامی اعزازات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہانگ کانگ میں قائم حقوق انسانی کی تنظیم ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے وکلاء رہنماؤں اعتزاز حسن اور منیراے ملک کو ایشین ایوارڈز دینے کے اعلان کے ساتھ ہی شاید پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں پر گزشتہ کئی سالوں کے دوران ’ریاستی جبر اور جنسی تشدد‘ کے شکار نسبتاً زیادہ افراد کو بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہو۔ اس کے علاوہ صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا شمار بھی شاید پاکستان کے ان چند ایک حکمرانوں میں ہونے لگا ہے جن کے نو سالہ دور حکومت میں سول سوسائٹی کی ایسی سات شخصیات کوبین الاقوامی تنظیموں اور اداروں نے ایوارڈز دیے ہیں جو یا تو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں یا ان میں سے بعض اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران ’ریاستی جبر‘ کا شکار ہوئے ہیں۔ ان شخصیات میں سےسپریم کورٹ کے برطرف چیف جسٹس افتخار چودھری کو ہارورڈ لاء سکول، منیر اے ملک اورچودھری اعتزاز حسن کو ایشین ایوارڈز، شمالی وزیرستان کے مقتول صحافی حیات اللہ کو ’کنیڈین جرنلسٹس فار فری ایکسپریشن‘ کی جانب سے بین الاقوامی صحافت کا اعزاز، دو ہزار دو میں مبینہ اجتماعی تشدد کا نشانہ بننے والی مختار مائی کو نیوریاک کے’گلیمر میگزین‘ کی طرف سے’وومن آف دی ایئر‘ جیسے اعزازات شامل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے ضلع سوئی میں مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ڈاکٹر شازیہ کے شوہر خالد امان اللہ کو کٹھن حالات میں اپنی بیوی کا ساتھ دینے پرامریکی تنظیم’ ایکوالِٹی ناؤ‘ اور ملک میں میڈیا پر حکومتی پابندیوں کے خلاف جد و جہد کرنے کے اعتراف میں صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم سی پی جے کی جانب سے پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس کو اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ سن دو ہزار پانچ کے دوران ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان میں عورتوں کے خلاف مبینہ ’جنسی تشدد‘ پراتنا زیادہ شور مچایا تھا کہ صدر مشرف کا صبر کا پیمانہ بظاہر لبریز ہوکر ایک بہت ہی متنازعہ بیان کی صورت میں چھلک پڑا تھا۔ انہوں نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران جھنجلا کر کہا تھا کہ ’پاکستان میں کئی لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کوویزہ لینا ہے تووہ ریپ کرالے۔‘ لیکن اس وقت جنرل صاحب کا دھیان پاکستانیوں کواتنی زیادہ تعداد میں ملنے والی اعزازات کی طرف نہیں گیا تھا، نہیں تو وہ شاید مزید کچھ کہتے۔ پاکستان کواب تک ملنے والے اعزازات کی اس فہرست میں شاید مزید بھی اضافہ ہو جاتا اگر دنیا بھر میں موجود مختلف اسلامی تنظیموں کو’ نیک محمد وزیر، مولانا عبدالرشید غازی، بیت اللہ محسود، عبداللہ محسود، مولانا فضل اللہ، مولانا فقیر محمد اور حاجی عمر‘ کو ایوارڈز دیے جانے پر کلعدم قرار دیئے جانے، اکاونٹس منجمد ہونے یا سرگرمیوں کو محدود کرنے کاڈر لاحق نہ ہوتا۔ | اسی بارے میں کراچی کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ10 May, 2007 | پاکستان لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘ 20 June, 2007 | پاکستان منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ10 May, 2007 | پاکستان ’مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی‘28 August, 2007 | پاکستان ’مارشل لاء دفن کرنا آسان نہیں‘22 October, 2007 | پاکستان ’جنرل کیانی تین نومبر کی عدلیہ بحال کر سکتے ہیں‘20 December, 2007 | پاکستان ’نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘20 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||