احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے الزام لگایا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والےججوں نے بعض مقدموں میں وکیلوں کو سنے بغیر سنے نمٹانا شروع کر دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر لطیف آفریدی ایڈوکیٹ کے سربراہی میں وکلاء کے ایک تین رکنی وفد نے پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار محمد ابراہیم خان سے ملاقات کی اور وکیلوں کو سنے بغیر مقدمات کو نمٹانے کے رججان پر احتجاج کیا۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تین رکنی وفد کے ایک رکن ستار خان ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے کو بتایا کہ وکلاء کے وفد نے رجسٹرار سے درخواست کی ہے کہ وہ ججوں کو پیغام پہنچائیں کہ وہ صاحبان وکیلوں کو سنے بغیر مقدموں کا میرٹ پر فیصلہ نہ کریں۔ ستار خان کا کہنا تھا کہ اُن کی ملاقات کافی اچھی رہی جس کے دوران اُن کو دوسری جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے رجسٹرار کو ججوں کے لیے پپغام پہنچایا کہ اگر ان کے مقدمے یوں ہی یکطرفہ طور پر بغیر سنے نمٹائے جاتے رہے تو وکلا ء بھی جواباٌ راست اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘ سرحد بار کونسل نے منگل کو منعقد ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ
گذشتہ منگل کو ہونے والے سرحد بار کونسل کے اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ صوبہ سرحد میں اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ غیر معیینہ مدت کے لیے جاری رہے گا ۔ ستار خان اور لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ اس طرح وکلاء سے زیادہ مؤکلوں کے مفاد کو زیادہ زد پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ستار خان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ’ وکلاء سے زیادہ مؤکلوں کو نقصان ہوگا اور اگر مؤکلوں کا ہاتھ وکلاء کے گریبان تک پہنچا تو پھر وکلاء بھی انتہائی اقدام اٹھانے کے بارے میں یقیناٌ کچھ نہ کچھ تو ضرور سوچیں گے۔‘ پشاور ھائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال جن مقدموں کو بغیر سنے نمٹایا گیا ہے اُن میں زیادہ تر ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کیے گئے تھے ۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے کہا’ اگر کوئی ایسامقدمہ جس میں اہم قانونی اور آئینی سوال تھے اور اُسے نمٹا دیا گیا تو پھر بار ضرور راست اقدام کریں گی۔‘ دریں اثناء پشاور ھائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اپنی ایک رُکن وکیل کی بنیادی رکنیت اس بناء پر معطل کردی کہ اُنہوں نے ایسو سی ایشن کے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کے برعکس اپنے ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں پشاور ھائی کورٹ کے جسٹس محی الدین کی عدالت میں حاضر ہوئیں تھیں۔ مذکورہ وکیل کے پشاور ھائی کورٹ کے بار روم میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور آئندہ پیر تک اُن سے وضاحت طلب کی گئی ہے ۔ | اسی بارے میں بائیکاٹ جاری: دورانیے میں کمی14 January, 2008 | پاکستان سرحد: بار کے فیصلے سے اختلاف15 January, 2008 | پاکستان صوبوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ06 December, 2007 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان مشرف کی حلف برداری، یومِ احتجاج28 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||