’محدود نہیں مکمل بائیکاٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کی چاروں صوبائی بار کونسلوں نے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے مکمل بائیکاٹ کو ایک دن تک محدود کرنے کی فیصلے کی مخالفت کر دی ہے۔ یہ مطالبہ پنجاب بار کونسل، سندھ بار کونسل، سرحد بار کونسل اور بلوچستان بارکونسل کے عہدیداروں نے جمعرات کو لاہور میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ پی سی او ججز کا مکمل بائیکاٹ ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ اجلاس میں پنجاب سے طارق جاوید وڑائچ، ارباب سید، عمران مسعود، سندھ سے عاقل لودھی، سرحد سے قاضی نعیم اور سعید اختر نے شرکت کی جبکہ بلوچستان سے سردار احمد نواز نے ٹیلی فون پر اس فیصلے کی حمایت کی۔ پاکستان بار کونسل نے تیرہ جنوری کو پشاور میں ہونے والے اجلاس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف اپنے احتجاج میں نرمی لاتے ہوئے عدالتوں کے بائیکاٹ کو روزانہ ایک گھنٹے اور ہفتے میں ایک دن یعنی جعمرات کے روز عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ تک محدود کر دیا ہے۔ اجلاس کے بعد پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے، وکلاء ان کو جج تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ان کے بقول پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے جج ہی ’اصل‘ جج ہیں اور ان ججوں کے عدالتی کام کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر کے وکلاء کا یہ مطالبہ ہے کہ پی سی او ججز کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اس لیے’پاکستان بار کونسل پی سی او ججز کے بائیکاٹ میں نرمی کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور فوری طور ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کےعہدیداروں پر مشتمل نیشنل ایکشن کمیٹی کا فوری طور پر اجلاس طلب کیا جائے جس میں مکمل بائیکاٹ کے بارے میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔‘ ایک سوال پر طارق وڑائچ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ پی سی او ججز کے مکمل بائیکاٹ کے فیصلے پر موثر طور پر عمل درآمد کرایا جائے گا اور اس فیصلہ کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ انہوں نے علی احمد کرد، منیر اے ملک، جسٹس(ر) طارق محمود اور اعتزاز احسن کی فوری رہائی، قومی حکومت اور آزاد الیکشن کمیشن کے مطالبات کیے۔ دوسری جانب ضلعی بار ایسوسی ایشن لاہور کے صدر منظور قادر اور سیکرٹری لطیف سراء سمیت دیگر عہدیداروں نے پی سی او ججز کے روبرو پیش نہ ہونے کا اعلان کیا اور پاکستان بار کونسل کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر جمعرات کو پنجاب میں وکلاء نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلوس نکالے۔لاہور میں وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے شروع ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ختم ہوا۔ مظاہرین نے معزول چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق اور صدر پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے لگائے اور مال روڈ پر مسلم لیگ قاف کے امیدوار کے انتخابی بینرز بھی پھاڑ دیے۔ وکلاء کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے مظاہرین میں سٹیکرز بھی تقسیم کیے گئے۔ بشریْ اعتزاز سمیت دیگر مظاہرین نے وکلاء رہنماؤں کی نظربندی کے احکامات کو علامتی طور پر نذر آتش کیا۔ پنجاب اسمبلی کے باہر لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون نے خطاب میں کہا کہ وکلاء متحد ہیں اور عدلیہ کی بحالی تک تحریک جاری رہے گی۔ اس موقع پر دیگر وکلاء رہنماؤں نے بھی خطاب کیا جس کے بعد وکلاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں پی سی او ججوں کا بائیکاٹ05 December, 2007 | پاکستان ’عدلیہ کے بغیر آئین کی بحالی نام نہاد‘15 December, 2007 | پاکستان سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا07 January, 2008 | پاکستان ’وکلاء کو اقتصادی مشکلات کا سامنا‘13 January, 2008 | پاکستان سرحد: بار کے فیصلے سے اختلاف15 January, 2008 | پاکستان وکلاء ریلی، لاٹھی چارج، چھ زخمی24 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||