BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 January, 2008, 23:42 GMT 04:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں وکلاء کا یومِ افتخار
تین نومبر کے بعد سے وکلاء کی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا
پاکستان بھر کی وکلاء تنظیمیں جمعرات کو ججوں کی بحالی، صدر مشرف کے استعفے اور نظر بند اور گرفتار شدہ ججوں اور وکلاء کی رہائی کے لیے یوم افتخار منا رہی ہیں۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے نام پر منائے جانے والے دن کے موقع پر پورے ملک میں وکلاء کی تنظیمیں احتجاجی جلسے اور جلوس منعقد کر رہی ہیں۔

وکلاء برادری نے سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی ان احتجاجی جلسے اور جلوسوں میں شریک ہونے کی اپیل کر رکھی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے نظر بند نائب چیئرمین علی احمد کرد نے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اس دن ملک کے طول وعرض میں وکلاء احتجاج کرکے یہ بات ثابت کر دیں گے کہ وہ اس جدوجہد میں پوری طرح متحدہ اور ثابت قدم ہیں۔

وکلاء تحریک کے مقاصد کے بارے میں سوال پر علی احمد کرد نے کہا کہ جب تک غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام کرنے والا صدر ہٹ نہیں جاتا اور عدلیہ بحال نہیں کر دی جاتی ان کی تحریک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کے نتیجے میں حکومت بوکلاہٹ کا شکار ہو گئی تھی اور اس لیے عدلیہ کو تتر بتر کر دیا گیا اور آج ملک میں کوئی عدلیہ نہیں ہے۔

علی احمد کرد نے مزید کہا کہ وکلاء نے پہلے دن سے مشرف کو صدر تسلیم نہیں کیا اور ایل ایف او کے خلاف انہوں نے دو سال تک بڑی منظم تحریک چلائی۔

وکلاء برادری میں اختلاف اور سپریم کورٹ بار ایسوسی کے عدالتوں کے بائیکاٹ کے بارے میں فیصلے پر صوبائی بار کونسلوں کے احتجاج پر انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ وکلاء برادری میں اختلاف پیدا ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ کی جدوجہد میں حکومت اپنے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود نہ کسی وکیل کو خرید سکی اور نہ کسی کو دبا سکی۔

سپریم کورٹ بار کے عدالت کے بائیکاٹ کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا اور تمام وکلاء تنظیموں عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کرنے کے حق میں ہیں۔

علی احمد کرد نے کہا کہ دو جنوری کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یہ اعلی عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس دن وکلاء احتجاج کرکے ثابت کر دیں گے کہ اب اس ملک میں صرف اور صرف آئین اور قانون کی بلادستی ہو گی اور کس آمر کا حکم نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وکلاء کی جدوجہد کی بدولت ہی تھا کہ تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پچپن سے زیادہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا ’آج ایک چھابڑی والا بھی افتخار محمد چودھری کا جانتا ہے اور عبدالحمید ڈوگر کو کوئی نہیں جانتا۔‘

علی احمد کرد نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، پاکستان بار کونسل کے صدر اعتزاز احسن، طارق محمود اور منیر ملک کو رہا کر دے پھر انہیں آٹے اور دال کے بھاؤ کا پتا چل جائے گا۔

سابق وزیر اطلاعات طارق عظیم نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی تحریک سیاسی بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے اور اس میں سیاسی عناصر شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو رد کیا کہ حکومت اس تحریک سے کسی طرح بھی خوف زدہ ہے۔

پاکستان میں جاری بحران پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افتخار محمد چودھری کی بجالی کے بعد بہت کوشش کی گئی کہ یہ اختلافات ختم ہو جائیں لیکن لوگوں کی انا آڑے آ گئی۔

اسی بارے میں
احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج
20 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد