’جمہوریت کے لبادے میں ڈکٹیٹر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور امریکہ اور برطانیہ کی صدر پرویز مشرف کی حکومت کی حمایت پر سخت نتقید کرتے ہوئے صدر مشرف کو پاکستان میں ’جمہوریت کے لبادے میں ڈکٹیٹر‘ قرار دیا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالی اس تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ نیویارک میں تنظيم کے صدر دفتر سے شائع کی۔ اس رپورٹ کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے لکھنے تک بھی پاکستان میں ہونیوالے انتخابات کا منصفانہ اور شفاف ہونے کے امکانات زیادہ روشن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے حمایتی امیدواروں کے حق میں دھاندلیاں ہوچکی ہیں۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل پر ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اگرچہ مشرف حکومت اسکا الزام القاعدہ پر لگاتی ہے لیکن حکومت کی طرف سے جائے واردات کو دھو ڈالنا اور کئي اقدامات یا بے عملی نے عوام کے ذہنوں میں اس شک کو پختہ کیا ہے کہ بینظير بھٹو کے قاتلوں سے خفیہ ایجنسیاں ملی ہوئی ہیں۔ تنظیم نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججز کوابھی تک بحال نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ ملک میں انصاف کا کوئی ایسا فورم نہیں جہاں انتخابات میں دھاندلیوں کا متاثرہ فریق اپنی شکایت لیکر جائے۔ ہیومن رائٹس واچ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور پی سی او یا عبوری آئینی حکم کے منحرف ساتھی ججوں کی انکے اہلِ خانہ سمیت نظر بندیوں کی بھی شدید مذمت کی ہے۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں عاصمہ جہانگیر سمیت وکلاء کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ’ان میں کئی وکلاء سے ایمرجنسی کے نام پر مشرف حکومت کے مارشل لاء نافذ کرنے کے وقت آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کی اور ان پر تشدد کیا۔‘ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بارہ مئي کو کراچی میں تشدد کے واقعات میں مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان پیش پیش تھے۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ایم کیو ایم کراچي میں تشدد اور بھتہ خوری میں بھی ملوث رہی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کی آزادی کے حوالے سے پاکستان میں احمدی فرقے کے اراکین کے ساتھ پیش آنیوالے امتیاز اور تشدد کا بھی ذکر کیا گيا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں حکومت اور بلوچ عسکریت پسندوں نے مسئلے کا فوجی حل ڈھونڈھا ہوا ہے۔ رپورٹ میں انسداد دہشتگردی کے سیکشن میں پاکستان کے صوبہ سرحد سمیت قبائلی علاقوں میں صورتحال اور انسانی حقوق کے انتہائي مخدوش ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں پاکستان کے متعلق کہا گیا ہے ’اگرچہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین صدر مشرف پر ان کے پاکستان میں انسانی حقوق کیخلاف اقدامات پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن ان ممالک کے الفاظ اور عمل میں بڑا فرق ہے۔‘ ہیومن رائٹس واچ نے جنرل ریٹائرڈ مشرف کو جمہوریت پسند کے لبادے میں ڈکٹیٹر قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں نئی تاریخ پر ق لیگ خوش، باقی نالاں03 January, 2008 | پاکستان ججوں کی بڑی تعدادنےحلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ’عدالت دھمکیوں میں نہیں آئے گی‘ 02 November, 2007 | پاکستان نوازلیگ گرفتاریاں: وضاحت طلب05 September, 2007 | پاکستان ’مختصر التواء میں حرج نہیں‘01 January, 2008 | پاکستان ’نظرِ ثانی شدہ ووٹر لسٹیں 30 دن میں‘10 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||