BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 September, 2007, 18:09 GMT 23:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوازلیگ گرفتاریاں: وضاحت طلب

لاہور ہائی کورٹ
رٹ میں پنجاب حکومت اور پولیس کےافسروں کو فریق بنایا ہے
لاہور ہائی کورٹ نےحکومت پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے رہنماؤں اور کارکنوں کوحراساں کرنا بند کرے اور دو روز کے اندر اس بات کی وضاحت کرے کہ مسلم لیگی کارکنوں کوکیوں گرفتار کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چند روز کے دوران ان کے درجنوں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ہے اور دیگر کو حراساں کیا جارہاہے۔

گرفتاریوں کےخلاف مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر ذوالفقار کھوسہ اور رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے۔

مسلم لیگی رہنماؤں کے وکیل نصیر بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے رٹ میں پنجاب حکومت اور پولیس افسروں کو فریق بنایا ہے۔

رٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں سیاسی بنیادوں پر مسلم لیگی کارکنوں کو گرفتار اور حراساں کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگی وکیل کے بقول یہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت حکام کونوازشریف کی پاکستان واپسی کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے منع کیا گیاہے۔

نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کے تئیس اگست کے فیصلے کا حوالےدیتے ہوئے کہا کہ آئین کےمطابق حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات نافذ کرے تاہم ان کے بقول حکومت پنجاب ان احکامات کی خلاف ورزی کرکے توہین عدالت کی مرتکب ہورہی ہے۔

 کارکن ابھی تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں کیونکہ وہ حکومت کو ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرنا چاہتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کارروائیاں کارکنوں کی برداشت سے باہر بھی ہوسکتی ہیں
مسلم لیگ نون کے صوبائی نائب صدراعجاز احمد حفیظ

رٹ میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ مسلم لیگی کارکنوں کو حراساں نہ کرے اور انہیں سیاسی سرگرمیوں سے نہ روکا جائے اور جن کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے۔

رٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن حکام نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

اس رٹ کے ساتھ گرفتار مسلم لیگیوں کے ناموں کی فہرست بھی ہائی کورٹ کو فراہم کی گئی ہے ۔ مسلم لیگی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ جیسے جیسے انہیں مزید گرفتاریوں کی اطلاعات ملیں گی وہ اس فہرست میں اضافہ کرتے جائیں گے۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس زاہد حسین نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعہ کو شق وار جواب داخل کریں اور اس دوران گرفتار مسلم لیگیوں سے ان کے اہل خانہ کو ملنے دیا جائے۔

دریں اثناء مسلم لیگ کے چند صوبائی عہدیداروں نے لاہور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب تک ان کے دوسو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے اور پولیس انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے گھروں پر چھاپے مار رہی ہےاور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جارہاہے۔

مسلم لیگ نون کے صوبائی نائب صدراعجاز احمد حفیظ نے کہا کہ کارکن ابھی تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں کیونکہ وہ حکومت کو ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرنا چاہتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کارروائیاں کارکنوں کی برداشت سے باہر بھی ہوسکتی ہیں۔

اسی بارے میں
واپسی کا فیصلہ 29 اگست کو
25 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد