علی سلمان، عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | نواز شریف نے دس ستمبر کو پاکستان پہنچنے کی بات کی ہے |
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے استقبال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے طور پر پنجاب میں مسلم لیگی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور راولپنڈی، ٹیکسلا،گوجر خان، مری کہوٹہ اور لاہور سے ان کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ کے سربراہ اور معزول وزیر اعظم میاں نواز شریف نے دس ستمبر کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے کا اعلان کر رکھا ہے، اس لیے ان کے استقبال کے حوالے اسلام آباد، راولپنڈی، مری، ٹیکسلا، گوجرخان سمیت ارگرد کے شہر اور قصبوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ان تیاریوں کے لیے ہر تحصیل میں اجلاس شروع کر رکھے ہیں۔ مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری راجہ اشفاق سرور نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوجر خان میں ان کی پارٹی کا دفتر سیل کر دیا گیا ہے۔ اس دفتر میں راجہ اشفاق سرور پارٹی کے ایک ایسے اجلاس میں سربراہی کرنے والے تھے جس میں نواز شریف کی استقبالی تیاریوں کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جانی تھی۔ راجہ اشفاق سرور نے کہا کہ یہ گرفتاریاں نواز شریف کے استقبال میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گی۔ پولیس ذرائع نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے البتہ پولیس حکام باقاعدہ طور پر ان گرفتاریوں کی تصدیق یا تردید نہیں کر رہے ہیں۔ لاہور کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی لاہور میں بڑے پیمانے پرگرفتاریاں شروع کرنے کے احکامات جاری نہیں ہوئے ہیں لیکن فہرستیں تیار ہیں اور مقامی تھانوں کو بھجوائی جاچکی ہیں۔ ان فہرستوں میں پولیس کے ٹارگٹ وارڈ یعنی صوبائی اسمبلی کے حلقے کے سطح کے رہنما ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے لاہور میں اپنے صوبائی دفتر میں گرفتاریوں کے حوالے سے ایک کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اس کنٹرول روم میں گرفتار ہونے والوں کے کوائف اکٹھے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ سوموار کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر سردار ذالفقار کھوسہ نے ایک پریس کانفرنس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو لکھے گئے ایک خط کے بارے میں بتایا۔ مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ایک خط میں لکھا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن دس ستمبر کو پرامن طریقے سے اپنے قائدین نواز شریف اور شہباز شریف کا استقبال کریں گے۔ حکومت استقبال میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔ اگر حکومت نے اس میں رکاوٹ ڈالی تو امن وامان سمیت دیگر نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ |