’عدالت دھمکیوں میں نہیں آئے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدارتی انتخابات میں جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہر طبقہ سپریم کورٹ پر تنقید پر آمادہ ہے اور اس کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا تقدس ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا اور عدالت پر کسی بھی دھمکی کا اثر نہیں پڑے گا اور عدالت ان درخواستوں پر فیصلہ آئین کے مطابق دے گی۔ انہوں نے یہ ریمارکس وفاق کے وکیل وسیم سجاد کی اس دلیل کے جواب میں دیئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کچھ عرصے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عدالت کا کنٹرول ختم ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت عدالت میں ہو رہی ہے جبکہ اس کے فیصلے سڑکوں پر ہو رہے ہیں۔
بینچ میں شامل جسٹس چوہدری اعجاز نے کہا کہ اس بینچ میں شامل جج صاحبان آپس میں یہ بات کر رہے تھے کہ ان درخواستوں پر فیصلہ پندرہ نومبر تک کردیں ورنہ عدالت پر دباؤ آ جائے گا۔ اس موقع پر صدارتی امیدوار جسٹس وجیہہ الدین احمد کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں عدالت کا احترام ہے لیکن سرکاری وکیل مارشل لاء اور ایمرجنسی کی باتیں کر رہے ہیں جس سے ان کی تشویش میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کل دھمکی آئی تھی کہ وہ ماورائے آئین اقدام کریں گے اس کے علاوہ پی سی او کی بھی بات ہو رہی ہے جس کا مقصد اس بینچ میں شامل جج صاحبان کو دباؤ میں لانا ہے۔ اعتزاز احسن نے عدالت میں ایک درخواست بھی پیش کی جس میں وفاق اور صدر سے عدالت کو مارشل لاء یا ایمرجنسی نہ لگانے کی واضع یقین دہانی کا تقاضہ کیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت کہے کہ وہ کوئی ماورائے عدالت قدم نہیں اٹھائے گی جس سے عدالتی کارروائی میں خلل پڑے اور ججوں کے اختیارات پر قدغن لگے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عدالت کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لاء نہیں لگے گا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ماشل لاء کسی سے پوچھ کر نہیں لگایا جاتا ہے۔‘ اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس سال بیس جولائی کے بعد جو روایات جنم لے رہی ہیں وہ درست نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نہ انہیں کوئی ڈکٹیٹ کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ سب کو خوش کرسکتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کے بعد جب چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا اس کے بعد وکلاء برادری نے جدوجہد کی اور عدالت کو تقویت بخشی اور اس کے وقار میں اضافہ کیا۔
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صدر کی اہلیت اور نااہلیت والی شقیں الگ الگ ہیں اور صدر پر نااہلیت کی شق کا اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں صدر کو در عہدے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ایک شخص جس پر نااہلیت کی دفعہ لاگو ہوتی ہے وہ اہل ہو سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر کے انتخاب کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر نااہلی کی دفعہ صدر پر لاگو نہیں ہوتی تو اس کو آئین سے نکال دینا چاہیے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ کب تک اپنے دلائل مکمل کرلیں گے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ پیر کو سماعت کے دوران اپنے دلائل مکمل کرلیں گے جبکہ فیڈریشن کے وکیل وسیم سجاد اور صدر کے وکیل شیریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ انہیں اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک ایک دن درکار ہوگا۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت ان درخواستوں پر جلد ازجلد فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ عداالت نے ان درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔اس سے پہلے جب سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے کہا ان درخواستوں کے شیڈول میں رد و بدل کیا ہے اور درخواستوں پر فیصلہ منگل تک آجائے گا جس پر اعتزا احسن نے کہا کہ وہ ہفتہ کے روز دستیاب نہیں ہوں گے چونکہ وہ سپریم کورٹ بار کے صدر ہیں اور سپریم کورٹ بار کا اجلاس ہورہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’اہم فیصلے کیسے نظرانداز کریں‘25 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب دوبارہ ہو سکتا ہے29 October, 2007 | پاکستان ’عدالت تنازعے میں نہیں پڑےگی‘31 October, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ: فیصلہ بارہ نومبر کے بعد01 November, 2007 | پاکستان ’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘23 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||