BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ: فیصلہ بارہ نومبر کے بعد

سپریم کورٹ بنچ
نظریہ ضرورت دفن ہوچکا ہے اس لیے بار بار اس کا ذکر نہ کریں: سپریم کورٹ
صدر کی اہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر فیصلہ بارہ نومبر کے بعد متوقع ہے۔

جمعرات کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ جمعہ کے روز اپنے دلائل مکمل کریں گے جبکہ وفاق کے وکیل وسیم سجاد اور صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ انہیں اپنے دلائل مکمل کرنے میں ایک ایک دن درکار ہوگا۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگلے ہفتے بینچ میں شامل جج جسٹس راجہ فیاض کی بیٹی کی شادی ہے اس لیے بینچ کے کچھ ارکان آئندہ ہفتے دستیاب نہیں ہوں گے۔

اس پر درخواست گزاروں کے وکلاء اور بینچ نےاتفاق کیا کہ جمعہ کے روز ان درخواستوں پر سماعت جاری رہے گی اور پھر آئندہ سماعت بارہ نومبر کو ہوگی۔

اس سے قبل گیارہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کسی کو بھی عدالت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ ریمارکس انہوں نے صدارتی اُمیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل اعتزاز احسن کے اس سوال کے جواب میں دیا جس میں انہوں نے کہا کہ خبریں آرہی ہے کہ اگر ان درخواستوں پر فیصلہ صدر کے خلاف آیا تو ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لاء نافذ ہو جائے گا۔جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ان دھمکیوں کا اثر اس بینچ پر نہیں پڑے گا۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ انہوں نے ماشل لاء کی کبھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان درخواستوں پر صدر کے خلاف فیصلہ آیا تو وہ بطور آرمی چیف اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزاروں کے وکیل عدالت کو مرعوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملکی حالات کے بارے میں وزراء جو بیانات دے رہے ہیں ان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظریہ ضرورت دفن ہوچکا ہے اس لیے بار بار اس کا ذکر نہ کریں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ لگتا ہے کہ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اس لیے وہ ان درخواستوں میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔

قانون کے مطابق
 چیف الیکشن کمشنر نے صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے اور ان کا یہ اقدام قانون کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت صدر کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے اُس وقت وہ فیصلے موجود تھے جن میں صدر کو دو عہدے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے
اٹارنی جنرل

جمعرات کے روز اٹارنی جنرل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی الیکشن کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر انتخابات آئین کے مطابق ہوں تو عدالت کو کبھی بھی مداخلت کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان درحواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت میں نہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے اور ان کا یہ اقدام قانون کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت صدر کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے اُس وقت قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے موجود تھے جس میں صدر کو دو عہدے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس خدائی اختیارات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر ایک بارہ سال کے بچے کے کاغذات نامزدگی منظور کرلے اور اسے الیکش لڑنے کی اجازت دے دے تو عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نااہلیت کی دفعہ صدر پر لاگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے خود اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے آئین کی جن دفعات اور آرمی ایکٹ کا حوالہ دیا ہے جو صدر پرویز مشرف پر لاگو ہوتی ہیں ان کے جوابات قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کے عدالتی فیصلوں میں موجود ہے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد