BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 October, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت تنازعے میں نہیں پڑےگی‘

بنچ
میڈیا کو آزادی آئین نے دی ہے: سپریم کورٹ
صدر کی اہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عدالت کسی سیاسی تنازعہ میں نہیں پڑے گی بلکہ ان درخواستوں کا فیصلہ میرٹ پر دے گی۔

یہ ریمارکس انہوں نے اٹارنی جنرل ملک قیوم کے دلائل کے دوران دئیے جس میں انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے عدالت میں انڈر ٹیکنگ دی ہے کہ وہ عہدہ صدارت کا حلف اُٹھانے سے پہلے وردی اُتار دیں گے لیکن سیاسی جماعتیں اُنہیں ایسا نہیں کرنے دے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ قبول کرے گی جس طرح انہوں نے چیف جسٹس کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو جتنی آزادی ایک فوجی نے دی ہے اس کی مثال نہیں ملتی انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ اس آزادی کا غلط استعمال کر رہی ہیں جس پر جسٹس جمشید علی نے کہا کہ یہ آزادی کسی شخصیت نے نہیں بلکہ آئین نے دی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر کے خلاف جو آئینی درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

صدر کا معاملہ کیوں نہیں؟
 جسٹس رمدے نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سپریم کورٹ مہنگائی اور ٹریفک جام کا از خود نوٹس لے سکتی ہے تو کیا صدر کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں لایا جا سکتا؟ ملک قیوم نے کہا کہ صدر کا کیس سپریم کورٹ میں لایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے مناسب طریقۂ کاراختیار کرنا ہوگا

جسٹس خلیل الرحمن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سپریم کورٹ مہنگائی اور ٹریفک جام کا از خود نوٹس لے سکتی ہے تو کیا صدر کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں لایا جا سکتا؟ ملک قیوم نے کہا کہ صدر کا کیس سپریم کورٹ میں لایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے مناسب طریقۂ کاراختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو اس ضمن میں پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں میں بڑے اہم نکات اُٹھائے گئے ہیں اور یہ قومی اہمیت کا کیس ہے اور اس کو سننے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کو ان درخواستوں کا فیصلہ کرنا ہے تا کہ ملک میں غیریقینی صورت حال کا خاتمہ کیا جا سکے نہ کہ درخواست گزاروں سے کہا جائے کہ وہ پہلے ہائی کورٹ جائیں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ جب نواز شریف کی پہلی حکومت کو ختم کیا گیا تھا تو اُس وقت نواز شریف سپریم کورٹ میں آئے تھے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ آئین کی دفعہ سترہ کے تحت سپریم کورٹ میں آئے تھے جس میں کسی انسان کےسیاسی حقوق متاثر ہوئے ہوں۔

News image
 نواز شریف ایک سیاسی جماعت کے صدر تھے اس لیے وہ سپریم کورٹ میں آسکتے ہیں جبکہ عام آدمی اس زمرے میں نہیں آتا
اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل نے کہا کہ چونکہ نواز شریف ایک سیاسی جماعت کے صدر تھے اس لیے وہ آئین کی دفعہ ایک سو چوراسی کی کلاز تین کے تحت سپریم کورٹ میں آسکتے ہیں جبکہ عام آدمی اس زمرے میں نہیں آتا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پولیٹیکل جسٹس صرف سیاسی جماعتوں کے لیے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ آئین کی دفعہ چار اور پچیس ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کی دفعہ پچیس بنیادی انسانی حقوق میں آتی ہے جبکہ آئین کی دفعہ چار اس زمرے میں نہیں آتی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر صدارتی انتخات سے پہلے صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوجاتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ان کے سیاسی حقوق متاثر ہوئے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں شخص اُن کے خلاف الیکشن نہیں لڑسکتا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سترہویں ترمیم جنرل پرویز مشرف کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ وردی میں صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ چیز امتیازی ہے تو آئین نے خود اس کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نااہلی کی دفعہ صدر پر لاگو نہیں ہوتی۔

بینچ میں شامل جسٹس جمشید علی نے استفسار کیا کہ اگر آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو کونسا ایسا فورم ہے جہاں پر اس کو اُٹھایا جا سکے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہتر فورم ہائی کورٹ ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ وہ کب تک اپنے دلائل مکمل کریں گے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ جمعرات تک اپنے دلائل مکمل کرلیں گے۔

وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اور صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ کو اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک ایک دن درکار ہوگا جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر ان درخواستوں کے حوالے سے ٹائم فریم طے کرنا ہوگا۔

اٹارنی جنرل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد