BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ کی بحالی، وکلاء کا احتجاج جاری

وکلا کا احتجاج
ہائی کورٹ اور سٹی کورٹ کے احاطے میں دو دو وکیلوں نے اپنے مطالبات کے حق میں علامتی بھوک ہڑتال کی۔
پاکستان بھر کے وکلاء نے ججوں کی بحالی کے لیے ہفتہ بھر کے لیے ملک گیر ہڑتال شروع کر دی ہے جو اٹھارہ فروری تک جاری رہے گی۔

پیر کے روز وکلاء نے کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور دوسرے شہروں میں ہڑتال کی۔

لاہور میں وکلاء کا عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ اور ججوں کی بحالی کے لیے شدید احتجاج کیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں وکلاء جلوس کی شکل میں عدالتوں میں گئے اور وکیلوں کو مقدمات کی پیروی کرنے سے روک دیا۔

وکلاء عدالتوں کے بائیکاٹ پر عمل درآمد کرانے کے لیےصبح آٹھ بجے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور ایک جلوس کی شکل میں بائیکاٹ ، بائیکاٹ کے نعرے لگاتے ہوئے عدالتوں میں گئے اور عدالتوں میں موجود وکیلوں کو مقدمات کی پیروی سے روک دیا۔

پیپلز پارٹی سینٹر کے خلاف نعرہ بازی
 وکلاء نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور پاکستان بار کونسل کے رکن سردار لطیف کھوسہ کے ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججوں کی تقریب حلف برادری میں شرکت کرنے پر ان کے خلاف بھی نعرے لگائے۔

وکلاء کا جلوس جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایم بلال خان کی عدالت کے پاس پہنچا تو عدالتی عملے نے دروازہ کو اندر سے بند کرلیا اور وکلاء کے دروازہ کھولنے کی کوشش میں دروازے کو نقصان پہنچا۔

وکلاء سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار اور ہائیکورٹ کے نئے ایڈیشنل جج جسٹس احسن بھون کی عدالت کے باہر اکٹھے ہو کر فاضل جج کے خلاف نعرے لگائے۔
وکلاء کے احتجاج پر چیف جسٹس سید زاہد حسین نے ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں سے اپنے چیمبر میں ملاقات کی۔

بار کی صدر فردوس بٹ نے ملاقات کے بعد بتایا کہ چیف جسٹس نے ان سے کہا ہے کہ وکلاء کی ہڑتال کے باعث ان کے مقدمات عدم پیروی کی بنیاد پر خارج نہیں ہوں گے اور وکلاء اپنے احتجاج کےدوران عدالتوں کا تقدس پامال نہ کریں۔

وکلاء نے جسٹس انوار الحق کی عدالت میں پیش ہونے والے اٹارنی جنرل پاکستان ملک محمد قیوم کے بیٹےاحمد قیوم کو بھی مقدمہ کی پیروی سے منع کیا لیکن احمد قیوم نے ان بات مانے سے انکار کردیا۔جس پر لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس میں اٹارنی جنرل کے بیٹے احمد قیوم کی بار کی رکنیت کو عدالتی بائیکاٹ کی خلاف وزری کرنے پر منسوخ کر دیا گیا۔

وکلاء نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور پاکستان بار کونسل کے رکن سردار لطیف کھوسہ کے ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججوں کی تقریب حلف برادری میں شرکت کرنے پر ان کے خلاف بھی نعرے لگائے۔

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح کراچی میں بھی وکلاء کی اکثریت نے سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جس کے باعث زیادہ تر مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکی۔

ہائی کورٹ اور سٹی کورٹ کے احاطے میں وکیلوں نے اپنے مطالبات کے حق میں علامتی بھوک ہڑتال کی جبکہ سٹی کورٹس کے احاطے میں ایک بڑا احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا جس کے شرکاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

پاکستان بار کونسل کی ہدایت پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے وکلاء نے بھی پیر کے روز عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلسے اور ریلیاں بھی نکالیں جس میں انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے حق میں نعرے لگائے اور تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

راولپنڈی میں وکلاء نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے۔ لاہور ہائی کورٹ بینچ راولپنڈی بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے کہا کہ وکلاء برادری عدلیہ کی آزادی تک کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اسلام آباد میں بھی وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور انہوں نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جس پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے حق میں نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن سمیت گھروں میں نظر بند کیے گئے وکلاء اور ججوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

وکلاء پر تشدد
وکلاء پر پولیس تشدد تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد