BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 February, 2008, 21:24 GMT 02:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہفتہ بھرعدالتوں کا مکمل بائیکاٹ

وکلاء احتجاج
عدالتوں کےمکمل بائیکاٹ کا فیصلہ قومی وکلاء کنونشن میں کیا گیا
پاکستان بھر کے وکلاء عدلیہ کی بحالی کے لیے پیر، گیارہ فروری سے عدالتوں کا دوبارہ مکمل بائیکاٹ شروع کر رہے ہیں جو عام انتخابات یعنی اٹھارہ فروری تک جاری رہے گا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور وکلاء کی نیشنل ایکشن کمیٹی کے سربراہ مرزا عزیز اکبر بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے عدالتوں کے دوبارہ مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ سینچر کو ہونے والے قومی وکلاء کنونشن کے شرکاء کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

پاکستان بارکونسل نےایک ہفتے اپنے اجلاس میں سپریم کور ٹ باراور صوبائی بارکونسلوں کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا تھا کہ عبوری آئینی حکم یعنی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔

مرزا عزیز بیگ کے بقول انہوں نے نیشنل ایکشن کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے خصوصی اختیارات کے تحت عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کے سلسلہ میں وکلاء اعلیْ عدلیہ سے ماتحت عدلیہ تک کسی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے ایک ڈیڈ لائن دے جائےگی اور اگر مقررہ معیاد تک ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیا کوآرڈی نیٹر محمد اظہر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سینئر وکلاء عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ پر عمل درآمد کرانے کو یقینی بنانے کے لیے عدالتوں کےباہر کھڑے ہو کر وکلاء سے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کی اپیل کریں گے۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظربند صدر اعتزاز احسن کی رہائش گاہ کے باہر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والوں ججوں کی حمایت میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

مقررین نےعدلیہ کی بحالی کے مطالبہ کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کے ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر ہونے کی مذمت کی۔

مظاہرین نے پاکستانی پرچم کے علاوہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور بیرسٹر اعتزاز احسن کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر عدلیہ کی آزادی کے حوالے نعرے درج تھے۔

اسی بارے میں
احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج
20 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد