’تین نومبر کے اقدامات کی تنسیخ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر کے وکلاء نے جمعرات کو عدالتی کارروایوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس منعقد کیے، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ آنے والی پارلیمنٹ ایک قرار داد منظور کرکے تین نومبر کو اٹھائے گئے اقدامات کو مسترد کر دے۔ جس کے بعد ایک حکم نامہ جاری کیا جائے جس کے ذریعے تمام جج صحابان بحال ہوجائیں گے۔ کراچی سٹی بار میں وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا، جس سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے خصوصی طور پر خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہ مئی، اٹھارہ اکتوبر اور دیگر واقعات کے بعد پاکستانی عوام اس وقت جس آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں اس میں مزید بڑے واقعات رونما ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی تاکہ جو کاغذی الیکشن ہو رہے ہیں عوام کو اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جائیں۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد کا کہنا تھا کہ کراچی میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات بارہ مئی کی یاد دلاتے ہیں جس کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے دو لفظوں میں یہ کہہ کر نماٹا دیا کہ تفتیش ان کا کام نہیں ہے مگر انہیں یہ بتانے والا بھی کوئی نہیں ہے کہ انکوائری اور تفتیش میں بڑا فرق ہوا کرتا ہے جج صحابان انکوائری کرتے ہیں انہیں تفتیش کرنے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔
معزول ججوں کی بحالی کے آپشنز کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس وجیہ الدین نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پی سی او کے خلاف تین نومبر کو جو حکم جاری کیا تھا وہ کارگر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والی پارلیمنٹ ایک انتظامی حکم کے ذریعے تین نومبر کو اٹھائے گئے اقدامات کو غیر مؤثر کرسکتی ہے۔ آنے والی اسمبلی کی پہلی ذمہ داری یہ ہوگی کہ جو کچھ بھی تین نومبر کے بعد ہوا ہے اس مسترد کرے جس کے بعد جج صاحبان خودبخود بحال ہوجائیں گے اور سپریم کورٹ میں جو جج بھرتی کیے گئے ہیں ان کی تعیناتی بھی ختم ہوجائیگی۔ پرویز مشرف نے آرمی چیف کے طور پر جو اقدامات اٹھائے تھے اگر موجودہ آرمی چیف کو کہا جائے کے ان کو واپس لے لیں تو یہ ایک بہت بڑا خطرناک اقدام ہوگا اور یہ اس بات کا اعتراف ہوگا کہ چیف آرمی اسٹاف اس قسم کے اقدام کرسکتا ہے اس کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ یوم افتخار ہر سال منانا چاہیے یہ نو مارچ، بیس جولائی یا تین نومبر کو منایا جاسکتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں خوف کا عالم ہے اور سناٹا چھایا ہوا ہے یہ خود بخود نہیں ہوا بلکہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے تاکہ اٹھارہ فروری تک خوف کی فضا رہے اور کنگز پارٹی کو موقع مل سکے کہ وہ بیلٹ باکس بھرلیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات ہوں نہ ہوں کنگز پارٹی جیتے یا اور کوئی پارٹی اقتدار میں آئے مگر وکلاء کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عدلیہ اور جج بحال نہیں ہوجاتے۔ جنرل باڈی کے بعد وکلاء نعرے لگاتے ہوئے پریس کلب کے لیے روانہ ہوئے مگر رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے انہیں ایم اے جناح روڈ سے واپس کردیا۔ لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ لاہور میں وکلاء نے ایوان عدل سے پنجاب اسمبلی تک جلوس نکالا اور اعلان کیا کہ جو وکلاء انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان کی رکنیت معطل کی جائیگی۔ پشاور میں دو وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ہیں، جس پر وکلاء تنظیموں نے سخت احتجاج کیا ہے اور لائحہ عمل طے کرنے کے لیے بار کے تمام ضلعی صدور کا اجلاس طلب کرلیا ہے، تین نومبر سے سرحد میں تمام وکلاء نے عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں وکلاء ریمانڈ پر جیل روانہ06 November, 2007 | پاکستان حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی ضمانت06 November, 2007 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان پی سی او چیلنج، درخواست واپس06 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ کالعدم06 November, 2007 | پاکستان کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری06 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول کا اعلان جلد کریں‘06 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||