’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس خلیل الرحمان رمدے کے لیے کوٹ، نیلے رنگ کی قمیض اور گہرے رنگ کی پتلون میں ملبوس ہونا ایک خوشی کی بات ہے۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا ’تین ماہ سے میں نے پتلون اور کوٹ نہیں پہنا۔ چونکہ مجھے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے میں گھر میں شلوار اور قمیض پہن کر پھرتا تھا۔ اس لیے میں مشکور ہوں آپ کا کہ آپ میرے گھر آئے اور مجھے پتلون اور کوٹ پہننے کا موقع ملا۔ میں بڑا اچھا محسوس کر رہا ہوں۔‘ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نظر بندی کس قدر انسان کا حوصلہ پست کر دیتی ہے۔ اور جسٹس رمدے ان حالات میں تین نومبر دو ہزار سات سے رہ رہے ہیں۔ جسٹس رمدے نے اپنی یاد داشت کے ورق پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کھانے پر گئے اور واپسی تقریباً گیارہ بجے رات کو ہوئی۔ ’تقریباً رات بارہ بجے ایک یونیفارم میں میجر میرے گھر آیا اور اور میرا پوچھا۔ میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا اور اس نے مجھے بتایا کہ میری رہائش گاہ سکیورٹی اہلکاروں کےگھیرے میں ہے اور میرے اور میرے خاندان کے افراد میں سے کوئی باہر نہیں جا سکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی ان کے تین سالہ پوتے پر بھی ہے جو دو ہفتے تک سکول نہ جا سکا۔
جسٹس رمدے تین نومبر تک سپریم کورٹ کے جسٹس تھے۔ بلکہ وہ ابھی بھی اصرار کرتے ہیں کہ وہ جسٹس ہیں کیونکہ ان کو اور ان کے بارہ جسٹس صاحبان کو ہٹانا ایک غیر آئینی قدم تھا۔ ’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں۔‘ رامدے نے صدر مشرف اور عدلیہ کے مابین جھگڑے میں اہم کردار ادا کیا جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو صدر نے معزول کر دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور جولائی میں تیرہ رکنی بنچ نے ان کو بحال کر دیا۔ اس بنچ کی سربراہی جسٹس رمدے نے کی تھی۔ ’ہمارا یہ خیال تھا کہ نو مارچ کو اٹھایا ہوا قدم نیک نیتی پر نہیں تھا۔‘ رمدے نے پچھلے تین ماہ اپنی لاہور کی رہائش گاہ پر پڑھنے اور لکھنے میں گزارے ہیں۔ اور ان کے کمرے میں ورزش کی مشین بھی ہے جو کہ انہوں نے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے رشتہ دار سے لی تھی۔ ’میں باغ میں گھوم گھوم کر اتنا بور ہو گیا تھا اور مجھے ذیابیطس بھی ہے اس لیے ورزش بہت ضروری ہے۔‘ ایک دیوار پر خاندان کی تصاویر تھیں۔ ’یہ میرے سسر ہیں اور ان کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ انیس سو ستتر میں جنرل ضیاء الحق نے ان کو بھی معزول کیا تھا۔ میرے خیال میں جرنیلوں کے ہاتھوں معزول ہونا خاندانی روایت ہے۔‘
اگرچہ نیم فوجی دستے گھر کے باہر موجود نہیں لیکن ابھی بھی چار پولیس اہلکار موجود ہیں۔ رمدے کے باہر نکلنے پر وہ ہوشیار ہو گئے لیکن رمدے نے احتیاط کی کہ وہ سڑک پر قدم نہ رکھیں۔ ان کو صرف جمعہ کی نماز مقامی مسجد میں پڑھنے کی اجازت ہے اور ان کو دسمبر میں حج کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔ ’مجھے ہوائی اڈے تک اور واپسی پر ہوائی اڈے سے گھر تک میں حفاظتی حصار میں رکھا گیا۔‘ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی صحافی کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہو۔ مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کو اندازہ ہو گیا ہے کہ انیس سال پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں کام کر کے اب وہ کام پر نہیں جائیں گے۔ ’جہاں تک میری نوکری کا سوال ہے مجھے کوئی خواہش نہیں ہے کہ میں نوکری پر واپس جاؤں۔ لیکن سوال اداروں کا ہے، لوگوں کے حقوق کا ہے اور آپ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت نہیں لا سکتے۔‘ یہ جنگ اب عدلیہ اور وکلاء اکٹھے لڑ رہے ہیں۔ بار ایسوسی ایشنز پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ رمدے کی رہائش گاہ پر کئی گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں ایک پرانی مرسڈیز بھی شامل ہے جو کہ بغیر ٹائروں کے اینٹوں پر کھڑی ہے۔ رمدے نے مسکراتے ہوئے کہا ’میں اس گاڑی کو دیکھتا ہوں اور اس کی میرے کیریئر سے بڑی مشابہت ہے۔‘ |
اسی بارے میں کراچی: وکلاء کا اہم اجلاس اتوار کو10 November, 2007 | پاکستان محمد میاں سومرو پاکستان کے نگراں وزیر اعظم15 November, 2007 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کی پٹائی، حلف نہ لینے والے ججوں کے گھروں پر تالے05 November, 2007 | پاکستان کراچی: وکلاء کا شدید احتجاج، حلف نہ لینے والے جج گھروں میں محدود05 November, 2007 | پاکستان سندھ: پی سی او کے تحت بارہ ججز04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||