BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 November, 2007, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: وکلاء کا اہم اجلاس اتوار کو

 کراچی میں وکلاء کی گرفتاری(فائل فوٹو)
اگر قیادت نے گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کیا تو ’جیل بھرو تحرک‘ چلائیں گے: سینیئر وکیل نہال ہاشمی
وکلاء برادری نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ ہفتہ کو بھی جاری رکھا۔ وکلاء کی قیادت جو اب تک گرفتار نہیں ہوئی اتوار کو اپنے اجلاس کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اجلاس اتوار سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں سنیچر کو پولیس اور رینجر کی بھاری نفری عدالتِ عالیہ کے دونوں داخلی دروازوں پر تعینات تھی تاکہ وکلاء کی جانب سے کسی بھی ممکنہ احتجاج کو کچلا جا سکے۔


سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اختر حسین نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ جو وکلاء اب تک گرفتار نہیں ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے فیصلے کریں گے جس کا اعلان اتوار تک کردیا جائے گا۔

قیادت کی کمی نہیں
 وکلاء برادری کی صفِ اول کی قیادت کی گرفتاری کے باوجود ہمارے پاس قیادت کی کمی نہیں ہے اور اس وقت تمام بار ایسوسی ایشنوں کے سابق عہدیدار اور دیگر سینئر وکلاء ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
نفیس عثمانی
انہوں نے کہا کہ کراچی میں وکلاء برادری کا جو بھی اجلاس ہوگا اس کی جگہ کا تعین عین وقت پر کیا جائے گا اور یہ حکمت عملی گرفتاری کے خدشہ کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری نفیس عثمانی نے بتایا کہ وکلاء برادری کی صفِ اول کی قیادت کی گرفتاری کے باوجود ان کے پاس قیادت کی کمی نہیں ہے اور اس وقت تمام بار ایسوسی ایشنوں کے سابق عہدیدار اور دیگر سینئر وکلاء ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ آئین کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور تمام برطرف وکلاء کو تین نومبر کی پوزیشن پر بحال کیا جائے کیونکہ ان کے بقول ’جو جج حضرات اس وقت کام کررہے ہیں وہ ہائی کورٹ کے پیچیدہ مقدمات کو نمٹانے کے اہل نہیں ہیں‘۔

ایک سینئر وکیل نہال ہاشمی نے کہا کہ وکلاء گرفتاریوں سے خائف نہیں ہیں اور ان کے حوصلے بھی بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وکلاء قیادت اپنے اجلاس میں گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ہم ’جیل بھرو تحرک‘ چلائیں گے اور ہم اتنی بڑی تعداد میں گرفتاری دیں گے کہ ملک کی جیلوں میں جگہ کم پڑ جائے گی۔

وکلاء برادری کے دعوے کے مطابق صوبہ سندھ میں اب تک تین سو کے لگ بھگ وکلاء گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ پولیس اور رینجر اب بھی وکلاء کے گھروں پر گرفتاری کے لئے چھاپے ماررہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے دعووں کے مطابق صوبے میں اب تک ان کے چھ سو سے زیادہ ارکان گرفتار ہوچکے ہیں۔ پولیس اور جیل حکام کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے اب تک قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کے الزام میں صوبہ بھر سے کل ڈھائی سو سے تین سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں زیادہ تعداد کراچی سے ہے۔ حکام کے مطابق ایک، ایک فرد سکھر اور خیرپور جیل جبکہ چار افراد کو ڈسٹرکٹ جیل میرپورخاص میں قید رکھا گیا ہے اور تین سو کے قریب افراد گرفتاری کے بعد کراچی سینٹرل جیل منتقل کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج(فائل فوٹو)غلامی پر ضمیر بھاری
’عدلیہ کی اکثریت کیلیے ضمیر کی آواز اہم ہے‘
ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
گورنر سرحد گورنر سرحد نے کہا
مغویوں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
اسی بارے میں
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘
07 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد