کراچی: وکلاء کا اہم اجلاس اتوار کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء برادری نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ ہفتہ کو بھی جاری رکھا۔ وکلاء کی قیادت جو اب تک گرفتار نہیں ہوئی اتوار کو اپنے اجلاس کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اجلاس اتوار سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں سنیچر کو پولیس اور رینجر کی بھاری نفری عدالتِ عالیہ کے دونوں داخلی دروازوں پر تعینات تھی تاکہ وکلاء کی جانب سے کسی بھی ممکنہ احتجاج کو کچلا جا سکے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اختر حسین نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ جو وکلاء اب تک گرفتار نہیں ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے فیصلے کریں گے جس کا اعلان اتوار تک کردیا جائے گا۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری نفیس عثمانی نے بتایا کہ وکلاء برادری کی صفِ اول کی قیادت کی گرفتاری کے باوجود ان کے پاس قیادت کی کمی نہیں ہے اور اس وقت تمام بار ایسوسی ایشنوں کے سابق عہدیدار اور دیگر سینئر وکلاء ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ آئین کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور تمام برطرف وکلاء کو تین نومبر کی پوزیشن پر بحال کیا جائے کیونکہ ان کے بقول ’جو جج حضرات اس وقت کام کررہے ہیں وہ ہائی کورٹ کے پیچیدہ مقدمات کو نمٹانے کے اہل نہیں ہیں‘۔ ایک سینئر وکیل نہال ہاشمی نے کہا کہ وکلاء گرفتاریوں سے خائف نہیں ہیں اور ان کے حوصلے بھی بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وکلاء قیادت اپنے اجلاس میں گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ہم ’جیل بھرو تحرک‘ چلائیں گے اور ہم اتنی بڑی تعداد میں گرفتاری دیں گے کہ ملک کی جیلوں میں جگہ کم پڑ جائے گی۔ وکلاء برادری کے دعوے کے مطابق صوبہ سندھ میں اب تک تین سو کے لگ بھگ وکلاء گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ پولیس اور رینجر اب بھی وکلاء کے گھروں پر گرفتاری کے لئے چھاپے ماررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے دعووں کے مطابق صوبے میں اب تک ان کے چھ سو سے زیادہ ارکان گرفتار ہوچکے ہیں۔ پولیس اور جیل حکام کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے اب تک قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کے الزام میں صوبہ بھر سے کل ڈھائی سو سے تین سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں زیادہ تعداد کراچی سے ہے۔ حکام کے مطابق ایک، ایک فرد سکھر اور خیرپور جیل جبکہ چار افراد کو ڈسٹرکٹ جیل میرپورخاص میں قید رکھا گیا ہے اور تین سو کے قریب افراد گرفتاری کے بعد کراچی سینٹرل جیل منتقل کیے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے05 November, 2007 | پاکستان ضلعی عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ 07 November, 2007 | پاکستان معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘07 November, 2007 | پاکستان ’سوات میں غیر ملکی موجود ہیں‘31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||