مشرف جائے، جسٹس آئے: سروے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو کے لیےگلوب سکین کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 63 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ نئی آنے والی اسمبلی چودھری افتخار کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت میں بحال کرے۔ لوگوں کی اکثریت کا یہ بھی خیال ہے کہ صدر مشرف کے استعفے سے ملک میں استحکام اور سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی۔ اسی طرح پاکستانیوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں سرکاری ایجنسیاں اور ان سے منسلک افراد ملوث ہیں۔ چھیالیس فیصد رائے دہندگان کہتے ہیں کہ 18 فروری کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے جبکہ 44 فیصد کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ رائے دہندگان کی اکثریت کا خیال ہے کہ اگلے چھ ماہ میں پاکستان کے حالات بہتر ہوجائیں گے۔ اس سال 27 اور 28 جنوری کے درمیان گلوب سکین کی طرف سےگیلپ پاکستان کے اس سروے میں چاروں صوبوں سے1476 افراد شریک ہوئے جن کی عمر 18 برس سے زیادہ تھی۔ رائے دہندگان کے گھروں میں جا کر ان سے دُو بدُو رائے حاصل کی گئی۔ رائے دہندگان سے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد، مستقبل کی حکومت، اگلے چھ ماہ میں پاکستان کی صورتِ حال میں بہتری، افتخار چودھری کی معزولی، بینظیر بھٹو کے قتل اور صدر مشرف کے بارے میں سوال پوچھے گئے۔ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ اگر ’صدر مشرف اس وقت استعفیٰ دے دیں‘ تو ملک کے استحکام اور سلامتی میں بہتری آ جائے گی۔ تاہم سروے میں شریک ہر چار افراد میں سے ایک (یعنی 25 فیصد) کا خیال ہے کہ اگر صدر مشرف نے اس وقت استعفیٰ دیا تو سکیورٹی کی صورتِ حال مزید خراب ہو جائے گی۔ سروے کے شرکاء میں سے 29 فیصد نےگزشتہ سال نومبر میں صدر مشرف کے انتخاب کو ’جائز‘ قرار دیا جبکہ 49 فیصد نے کہا کہ صدر کا انتخاب ’ناجائز‘ تھا۔ بائیس فیصد نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ ہر تین پاکستانی شہریوں میں سے دو (یعنی 63 فیصد) متفق ہیں کہ ’آنے والی قومی اسمبلی کو چاہیے کہ وہ افتخار چودھری کو بطور چیف جسٹس بحال کرے‘۔ انیس فیصد کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق سوال پر صرف 16 فیصد شرکاء نے حکومتِ پاکستان کے اس دعوے پر یقین کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے قتل میں پاکستان کے طالبان رہنما بیت اللہ محسود اور ان کا القاعدہ نیٹ ورک ملوث ہے۔ تاہم 39 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ’پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں یا ان ایجنسیوں سے منسلک افراد بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔‘ سروے کے 24 فیصد شرکاء کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کو کسی اور نے قتل کیا ہے جبکہ 21 فیصد کہتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے قتل میں کون ملوث ہے۔ یہ سروے، سکاٹ لینڈ یارڈ کی اس رپورٹ سے قبل کیا گیا تھا جس میں کافی حد تک بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق حکومتِ پاکستان کے موقف کی تائید کی گئی ہے۔ کیا 18 فرروی کو ہونے والے انتخابات ’آزادانہ اور منصفانہ‘ ہوں گے؟ اس سوال پر پاکستانی منقسم ہیں۔ چوالیس فیصد کہتے ہیں کہ انہیں ’بہت‘ یا ’ کسی حد تک‘ اعتماد ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ وہ شرکاء جنہوں نے اس سوال کے جواب میں ’بہت‘ کا لفظ استعمال کیا ان کی تعداد گیارہ فیصد ہے جبکہ 33 فیصد نے ’ کسی حد تک‘ کے الفاظ پر اکتفا کیا۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب 46 فیصد افراد نے دیا۔ ان میں سے 27 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں ’بہت زیادہ اعتماد نہیں ہے‘ جبکہ 19 فیصد کا جواب تھا کہ انہیں انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر ’بالکل اعتماد نہیں ہے۔‘ سروے کے شرکاء کی نصف تعداد نے ایک حد تک امید ظاہر کی کہ اگلے چھ ماہ میں پاکستان کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی۔ اکتالیس فیصد رائے دہندگان نے اس سوال کا جواب دیا اور ان میں میں سے 16 فیصد کہتے ہیں کہ وہ ’بہت پُرامید ہیں‘۔ تاہم 35 فیصد کا جواب تھا کہ وہ ’کسی حد تک پُر امید ہیں‘ کہ اگلے چھ ماہ میں پاکستان کی صورتِ حال میں بہتری آ جائے گی۔ اس کے مقابلے میں اگلے چھ ماہ میں پاکستان کی صورتِ حال میں بہتری کے سوال کے بارے میں39 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ ناامید ہیں، 19 فیصد کہتے ہیں کہ وہ ’بہت ناامید ہیں‘ جبکہ 20 فیصد کا خیال ہے کہ وہ ’کسی حد تک ناامید ہیں۔‘ گلوب سکین کے صدر ڈگ مِلر کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی مغربی حکومتوں نے صدر مشرف کی حمایت اس یقین پر کی ہے کہ صرف وہی ایک مستحکم پاکستان کی امید ہیں، لیکن پاکستان کے متوسط شہری اس خیال سے بہت حد تک اتفاق نہیں کرتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||