علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
| | بینظیر کا انتخابی مہم لاہور میں ختم کرنے کا وعدہ ان کے ساتھ ہی ختم ہوگیا |
پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ختم ہو رہی ہے تاہم ماضی کے برعکس پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون یا مسلم لیگ قاف سمیت انتخابات میں حصہ لینے والی کسی بھی ملک گیر جماعت نے لاہور میں اپنے بڑے اختتامی جلسہ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اگر اعلان کیاہے تو صرف آل پارٹیز ڈیموکریٹک مومنٹ نے جس میں شامل جماعتوں نے نہ صرف انتخابات کےبائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے بلکہ ان کی عوام سے بھی اپیل ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ نہ لیں۔ اے پی ڈی ایم کا مرکزی جلسہ سنیچر کی دوپہر مینار پاکستان کے سائے تلے ہو رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات اور بے یقینی کی کیفیت نے پاکستان میں انتخابی سرگرمیوں میں جوش پیدا نہیں ہونے دیا۔ پاکستان کے عام انتخابات کی روایت رہی ہے کہ ملک گیر جماعتیں اپنی سیاسی مہم کا اختتام عام طور پر لاہور میں ایک بڑے جلسۂ عام میں کیا کرتی تھیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ اگرچہ بے نظیر بھٹونے اپنی زندگی میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کا اختتام لاہورمیں ایک بڑے جلسے میں کریں گی لیکن ان کی ہلاکت کے ساتھ ہی یہ پروگرام بھی ختم ہوگیا۔  | | | نواز شریف اور آصف زرداری بھی کسی بڑ،ے جلسے سے خطاب نہیں کر رہے |
انتخابی مہم کے آخری روز پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف زرداری لاہور میں ہی موجود ہیں لیکن وہ مختلف چھوٹے جلسوں سے محض ٹیلی فونک خطاب ہی کریں گے۔ ادھر مسلم لیگ نون کے میڈیا کوآرڈینٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سنیچر کو شیخوپورہ میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کریں گے لیکن نواز شریف کے کسی مرکزی جلسۂ عام سے خطاب کا کوئی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان سنیچر کو ایک ملاقات بھی متوقع ہے اور اس موقع پر اگر کوئی پریس کانفرنس ہوئی تو اختتامی روز کی سب سے بڑی سرگرمی شاید یہی ہو۔ |