’لُٹیروں نے قسمت میں بھوک لکھ دی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز وطن واپسی کے بعد پہلی دفعہ انتخابی میدان میں اُتری ہیں اور اُنہوں نے جمعہ کو لاہور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ کلثوم نواز نے مخدوم جاوید ہاشمی اور سردار ایاز صادق کے انتخابی حلقوں ان دونوں جلسوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کلثوم نواز نے جلسے سے خطاب میں حکومت کی خواتین کے بارے میں پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ’ماڈرنائزیشن کے نام پر پاکستانی عورت کو ایک بازاری چیز بنا دیا گیا ہے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ’ کسی جمہوری نظام میں کوئی ڈنڈے والا ملک کا صدر نہیں ہوتا اور مسلم لیگ قاف باوردی صدر کو منتخب کروا کے فخر محسوس کر رہی ہے حالانکہ یہ شرمندگی کی بات ہے‘۔ کلثوم نواز نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’اُن کے ساتھ کیا جانے والا سلوک ہمارے دل کا زخم بنتا جارہا ہے۔ اُنہوں نے پاکستان کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہے‘۔ ایک دوسرے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کلثوم نواز کا کہنا تھا کہ ملک تاریخ کے بد ترین بحرانوں سے گُزر رہا ہے۔ کبھی عدالتی بحران تو کبھی رہشت گردی اُن کا کہنا تھا کہ ملک کے کھیت سونا اُگلتے ہیں لیکن ان لُٹیروں نے ہماری قسمت میں بھوک لکھ دی ہے۔ یہ کیسا پاکستان ہے؟ حکمرانوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے خود کو محفوظ بنانے کے لئے عام لوگوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ پاکستانی قوم ترقی کرنا چاہتی ہے لیکن حکمرانوں نے ہم کو اقوام عالم کی قطار میں سب سے آخر میں کھڑا کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں عدلیہ کی بحالی پر’واضح تفریق‘14 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان استحکام کی طرف؟15 February, 2008 | الیکشن 2008 ’تھانے میں واقفیت، ووٹ کی ضمانت‘15 February, 2008 | الیکشن 2008 فیصل آباد:پی پی اور ن لیگ میں’جنگ‘15 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||