BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 15 February, 2008 - Published 12:45 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان استحکام کی طرف؟

پاکستان انتخابات
انتہائی بے بقینی کے ماحول میں ملک کی سیاسی جماعتیں ملک کو باس اور نا امیدی کے بھنور سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں
پاکستان میں دنیا کے تمام دیگر جمہوری ملکوں کی طرح انتخابی عمل کے دوران لوگوں کے ذہن میں یہی سوال رہتا ہے کہ انتخابات کے بعد کون سی جماعت یا اتحاد اقتدار میں آتا ہے؟

لیکن اٹھارہ فروری کے عام انتخابات ماضی کے انتخابات سے کئی معنوں میں مختلف ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس سوال سے زیادہ کہ کون سی جماعت اقتدار میں آئے گی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ انتخابات کے بعد کیا ہو گا؟ ملک کی صورتحال کیا ہو گی؟

بی بی سی کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان کے رائے دہندگان کی تقریباً نصف تعداد کو یقین ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہونگے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے پاکستان کے بالغ شہریوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ صدر مشرف اگر مستعفی ہو جائیں تو ملک میں سیاسی استحکام قائم ہو جائےگا۔

انتہائی بے یقینی کے ماحول میں ملک کی سیاسی جماعتیں ملک کو نا امیدی کے بھنور سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس وقت انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے اور پاکستان کا سیاسی مستقبل تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں عوام کی تمناؤں اور خوابوں، سیاسی جماعتوں کی نااہلی اور فوجی رعونت کے درمیان معلق ہے۔

ملک کو نراجیت اور افراتفری کی اس منزل تک کس نے پہنچایا ہے، پاکستان کے سیاسی نظام میں اس طرح کی جواب دہی کا عمل ابھی موجود نہیں ہے۔ پاکستانی جمہوریت میں عوام صرف بے بس تماشائی ہیں۔

ملک کو نراجیت اور افراتفری کی اس منزل تک کس نے پہنچایا ہے ، پاکستان کے سیاسی نظام میں اس طرح کی جوابدہی کا عمل ابھی موجود نہیں ہے۔پاکستانی جمہوریت میں عوام صرف بےبس تماشائی ہیں۔عوام ملک کے پورے سیاسی نظام سے بد ظن ہیں ۔ وہ فوجی حکمرانوں اورفرسودہ سیاست، دونوں کے ہی یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پورے ملک میں پی پی پی کے لیے کچھ ہمدردی کے جذبات ضرور پیدا ہوئے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ وہ آزادانہ انتخابات کی صورت میں تنہا اپنے زور پر حکومت سازی کی اہل ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ ہفتے تشکیل پانے والی حکومت میں پی پی پی کے ساتھ اس کی روایتی حریف مسلم لیگ (ن) بھی شریک ہو جائے۔

اس مرحلے پر جو بات یقینی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ شفاف انتخابات ہونے کی صورت میں مستقبل کی حکومت میں پی پی پی یا میاں نوازشریف کا کلیدی کردار ہو گا۔ اب سوال یہ کہ یہ حکومت کتنی با اختیار ہو گی اور صدر پرویز مشرف کا کیا ہو گا؟

اگر حزب اختلاف کی جماعتیں واقعی اقتدار میں آتی ہیں تو یہ ایک مثبت آغاز ہو گا اور اس سے نئی حکومت میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ صدر مشرف وردی اتارنے کے بعد فوج سے اپنی طاقت حاصل نہیں کر سکتے۔

اب ان کے پاس طاقت کا سرچشمہ صرف آئین ہو گا جس کی نگہبانی نومنتخب قومی اسمبلی کے ہاتھوں میں ہو گی، ایک منتخب، جائز اور عالمی حمایت یافتہ حکومت اور قومی اسمبلی کی تشکیل صدرمشرف کی خود سر سیاست اور ان کے غیر جمہوری اختیارات کے خاتمے کا جواز بن جائے گی۔

صدر مشرف حالیہ دنوں میں کئی بار قومی مصالحتی سیاست کا ذکر کر چکے ہیں۔ یہ ایک طرح کی تنبیہہ ہے جوبہت تیزی سے اپنا اثر کھو رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پورے ملک میں پی پی پی کے لیے کچھ ہمدردی کے جذبات ضرور پیدا ہوئے ہیں

سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک بڑا اور فوری چیلنج عدلیہ کی آزادی کی بحالی کا ہے اور یہی صدر مشرف سے براہ راست ٹکراؤ کا پہلا سبب بن سکتا ہے۔

صدر مشرف کے بہت سے اقدامات اور ان کے طریقہ کار پر ناراضگی اور ناپسندیدگی کے باوجود گزشتہ مہینو ں میں پاکستان کے عوام بےساختگی کے ساتھ سڑکوں پر نہیں نکلے۔

دراصل عوام ملک کے پورے سیاسی نظام سے بد ظن ہیں۔ وہ فوجی حکمرانوں اورفرسودہ سیاست، دونوں کے ہی یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

لیکن اب پاکستان کی تاریخ کروٹ لے رہی ہے ۔ گزشتہ چند مہینوں میں پاکستانی جمہوریت میں اس کے بنیادی کردار عوام کی طاقت کا مظاہرہ ہوا ہے۔

صدر مشرف کو بار بار مختلف معاملات پر اپنے دفاع میں صفائی دینی پڑ رہی ہے۔ عوام کے دباؤ کے نتیجے میں ہی پیر کے عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ پیر کے انتخابات پاکستان کی جمہوری قدروں، تمناؤں اور اجتماعی امیدوں کا ایک مکمل اظہار ہوں گے اور عوام اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں گے۔

احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
مشترکہ یا جداگانہ
اقلیتی ووٹروں کے لیے کونسا نظام بہتر؟
الیکشن کمیشن پنجاب کشیدگی
انتخابی کدورتیں کشت و خوں کا باعث بنتی ہیں
نواز شریف’نئے احکامات جاری‘
نواز شریف نے دھاندلی کا حقائق نامہ جاری کردیا
پی پی پی کا بڑھتا جوشسندھ میں پی پی پی
جیالے پہلے سے زیادہ متحرک نظر آ رہے ہیں
پنجاب الیکشنملتان کا الیکشن
’ووٹر نہ جانے کس پر مہر لگائیں گے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد