BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 15 February, 2008 - Published 19:57 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: قوم پرست باہر رہیں گے

سردار عطاءاللہ مینگل
سردار عطاءاللہ مینگل کی پارٹی نے بگٹی کی ہلاکت کے بعد پارلیمنٹ کو خداحافظ کہہ دیا تھا
انیس سو اٹھاسی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلیوں میں بلوچ قوم پرست جماعتوں کی کوئی باقاعدہ نمائندگی نہیں ہوگی۔

اس دفعہ عام انتخابات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور بعض دوسرے علاقوں میں مبینہ فوجی آپریشن اور اس کے ردعمل میں مسلح کارروائیاں جاری ہیں اور پہلی مرتبہ مبینہ طور پر تین سرگرم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ اٹھارہ فروری کو انتخابی عمل سے دور رہیں۔

اس دھمکی کی ایک جھلک گزشتہ دنوں ضلع خضدار میں ایک انتخابی دفتر پر ہونے والے بم حملہ کی صورت میں نظر آگئی تھی جس کے نتیجے میں درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں نواب خیر بخش مری کے علاوہ مرحوم غوث بخش بزنجو، سردار عطاءاللہ مینگل، مرحوم نواب اکبر خان بگٹی اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی سربراہی میں مختلف اوقات میں متعدد ناموں سے بننے والی بلوچ قوم پرست جماعتوں کا مطمع نظر ہمیشہ یہی رہا ہے کہ بلوچوں کے حقوق کے حصول کا بہترین ذریعہ پر امن سیاسی جدوجہد اور پارلیمنٹ ہے۔

مگر جنرل پرویز مشرف کی دور حکومت میں بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقہ میں شروع کیے جانے والے آپریشن اور اس کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ کے ’بہترین دوست ‘ سمجھے جانے والے نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں نے ان بلوچ قوم پرست جماعتوں کی نظریاتی اور سیاسی کایا پلٹ دی ہے۔

نواب اکبر بگٹی اور برہمداغ بگٹی

سردار عطاءاللہ مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی نے تو نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد ہی استعفے دیکر پارلیمنٹ کو خداحافظ کہہ دیا تھا اور اس جماعت کے رہنماء اختر مینگل اب بھی قید میں ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی نیشنل پارٹی اگرچہ اس وقت اعلان کے باوجوداسمبلیوں سے مستعفی نہیں ہوئی مگر اس بار انہوں نے اے پی ڈی ایم کی چھتری تلے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ کسی طرح جمہوری وطن پارٹی نواب اکبر خان بگٹی کی شخصیت کا محور کھونے کے بعد اب تتّر بتّر ہوچکی ہے۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے بائیکاٹ کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سخت گیر مؤقف رکھنے والے کارکنوں کے دباؤ کےسامنے ٹھہرنے کی صلاحیت کھوچکے تھے۔ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مبینہ بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے ان سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی صورت میں دھمکیاں بھی دی تھیں۔

مبصرین کا خیال تھا کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نواب بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کے بعد بلوچوں کے غم و غصہ کو کم کرنے اور انہیں پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیےایسے اقدامات کرے گی جس کے نتیجے میں سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد پر یقین رکھنے والی قوم پرست جماعتوں پر انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے دباؤ کم ہوجاتا، مگر ایسا نہ ہوسکا۔

اسی بارے میں
بلوچستان سردی کی لپیٹ میں
06 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد