دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان |  |
 | | | ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان امیدوار فیصل کریم کنڈی ہیں |
وزیرستان کی مخدوش صورتحال کے سبب ڈیرہ اسماعیل خان، فاٹا اور دیگر جنوبی اضلاع کے انتخابی نتائج پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار مختلف صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ تاہم خطے کی نازک صورتحال کے پیش نظر مولانا فضل الرحمن اور ان کے بھائیوں کے حلقہ ہائے انتخاب پر سب کی نظریں ہیں۔ جمعیت علماء اسلام ف گروپ کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن اس دفعہ این اے چوبیس ڈیرہ اسماعیل خان اور این اے چبیس بنوں سٹی سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ بنوں کی نشست پر مولانا فضل الرحمن کا مقابلہ آزاد امیدوار ملک ناصر خان سے ہو رہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بنوں سٹی کے ووٹ مولانا کے مخالف امیدوار کو جا سکتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں مولانا کی پوزیشن کچھ بہتر بتائی جاتی ہے۔ کچھ حلقے سابق وزیراعلیٰ سرحد اکرم درانی سے اس بات پر نالاں ہیں کہ وہ بنوں شہر کی بجائے باہر کے امیدوار کو لائے ہیں اور اس کی حمایت کرہے ہیں۔ مولانا نے بنوں کے حالات کے پیش نظر مہم کا آخری دن بنوں شہر میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان امیدوار فیصل کریم کنڈی ہیں اور دونوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔  | | | بنوں کی نشست پر مولانا فضل الرحمن کا مقابلہ ہاکی کے سابق کھلاڑی اور آزاد امیدوار ملک ناصر خان سے ہو رہا ہے | یہاں یہ بات یاد رہے کہ پچھلے انتخابات میں مولانا نے فیصل سے صرف پانچ ہزار ووٹوں کی سبقت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس دفعہ کے مقابلے میں بظاہر فیصل کریم کنڈی عوامی رائے کے مطابق مولانا سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ حلقہ این اے پچیس ٹانک سے مضبوط امیدوار ق لیگ کے حبیب اللہ کنڈی اور پیپلز پارٹی کے داور خان کنڈی کا مولانا کے بھائی عطا الرحمن سے مقابلہ ہے۔ مولانا کے دوسرے بھائی لطف الرحمن ڈیرہ اسماعیل سے دو صوبائی نشتوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی ایف چھیاسٹھ پر وہ ایک مضبوط امیدوار نظر آرہے ہیں جبکہ پی ایف سڑسٹھ پر ان کی پوزیشن کمزور ہے۔ مولانا کے تیسرے بھائی عبیدالرحمن صوبائی اسمبلی کے ایک اور حلقے ق لیگ کے حلیم قصوریاں، پیپلز پارٹی کے میجر لطیف اللہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے فیض اللہ خان کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔اس حلقے میں عبیدالرحمن سے زیادہ تر ووٹ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار فیض اللہ خان کے حق میں استعمال ہونے کا امکان ہے کیونکہ اس سیاسی پارٹی سے وابستگی کے علاوہ اکثر لوگوں کی جھکاؤ قوم پرست کی طرف ہے۔ اس کے علاوہ وفاق کے زیر انتظام پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قومی اسمبلی کے بارہ نشتوں میں گیارہ نشتوں پر تمام کے تمام امیدوار آزاد حثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔ کل ووٹروں کی تعداد چودہ لاکھ دس ہزار تین سو چبیس ہیں جن میں سے نو لاکھ پچاسی ہزار نوسو چورانوے مرد اور چار لاکھ چوبیس ہزار تین سو بتیس خواتین ووٹر ہیں۔ پہلے تو قبائلی علاقوں میں امن امان کی خراب صورتحال کے باعث مقررہ تاریخ پر الیکشن نہ کرنے کی خدشات ظاہر کیے جارہے تھے۔ لیکن تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس اعلان کے بعد الیکشن کرانا ممکن ہوگیا ہے جب انہوں نے الیکشن میں مداخلت نہ کرنے کا کہا۔ یاد رہے کہ قبائلی علاقات جات میں پاکستان پولیٹکل پارٹیز ایکٹ لاگو نہیں ہے اور امیدوار ملک کی سیاسی پارٹیوں کی ٹکٹ کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے اور نہ وہ سیاسی پارٹیوں کی جھنڈے بینرز اور پوسٹر استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی امیدوار وں کا کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق یا رابط ضرور ہوتا ہے۔ |