BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 16 February, 2008 - Published 21:26 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی عملہ ڈیوٹی سے’خوفزدہ‘

انتخابی عملہ
’دھاندلی کرانے یا روکنے میں انتخابی عملے کا اہم کردار ہوتا ہے ‘
بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے سلسلے میں جہاں یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہے گی وہاں ان سرکاری ملازمین میں بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے جنہیں پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیا گیا ہے اور ان میں سے بیشتر کی کوشش ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی منسوخ کروا لیں۔

انتخابی عملے میں شامل ان ملازمین کی کل تعداد پونے چھ لاکھ کے قریب ہے۔
ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی لیکن دونوں ہی یکساں طور پر الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔

ایک خاتون ٹیچر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اپنے خدشات بتاتے ہوئے کہا ’میری جاب کو پچیس سال ہوگئے ہیں، الیکشن میں ہمیشہ میں نے ڈیوٹی کی ہے لیکن اس دفعہ پتہ نہیں کیوں، دل میں ایک خوف سا ہے۔ بس یہ جو ہنگامے اس مرتبہ ہوئے ہیں ان کی وجہ سے۔ پہلے تو ہم الیکشن میں بڑے اطمینان سے ڈیوٹی کرتے تھے اور بڑا مزا آتا تھا‘۔

پینتیس سالہ نگہت سلطانہ چوہان ایک غیر سرکاری تنظیم کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو کراچی میں انتخابی عمل کی نگرانی میں مصروف ہے۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے انتخابی عملے سے قریبی رابطے میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عملے میں شامل خواتین مردوں سے زیادہ خوف کا شکار ہیں۔

 میری جاب کو پچیس سال ہوگئے ہیں، الیکشن میں ہمیشہ میں نے ڈیوٹی کی ہے لیکن اس دفعہ پتہ نہیں کیوں، دل میں ایک خوف سا ہے۔ بس یہ جو ہنگامے اس مرتبہ ہوئے ہیں ان کی وجہ سے۔ پہلے تو ہم الیکشن میں بڑے اطمینان سے ڈیوٹی کرتے تھے اور بڑا مزا آتا تھا۔
ایک خاتون ٹیچر

’ایسی خواتین میں نے دیکھی ہیں یہاں آر او صاحب (ریٹرننگ آفیسر) کے آفس میں جو اپنی ڈیوٹیاں کینسل کرانے آئی تھیں لیکن ان کی ہو نہیں سکی، اس لئے وہ بہت پریشان ہیں۔وہ سوچتی ہیں کہ کوئی خودکش حملہ نہ ہوجائے، کوئی فائرنگ یا ہنگامہ وغیرہ نہ ہوجائے یا کچھ بھی ایسے حالات پیدا ہوں تو ہم عورتیں کہاں جائیں گی‘۔

نگہت سلطانہ نے کہا کہ انتخابی عملے میں شامل بیشتر خواتین کو یہ بھی شکایت ہے کہ ان کے گھروں سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پولنگ سٹیشنوں میں ان کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ ’تو ظاہر ہے ہر ایک کے رشتے دار تو وہاں (پولنگ سٹیشن کے قریب) نہیں ہوتے۔ نہ کوئی جاننے والا ہوتا ہے کہ حالات خراب ہونے کی صورت میں وہ فوری طور پر نکل کر کہیں جاسکیں اور دوسرا یہ کہ ان کی ذمہ داری ہے وہ پولنگ سٹیشن سے جا بھی نہیں سکتیں‘۔

ایک خاتون ٹیچر جو اپنی الیکشن ڈیوٹی منسوخ کرانے میں کامیاب ہوگئیں ان سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ’ملک کے جو حالات ہیں ان کی وجہ سے ہی زیادہ ڈر ہے اور جب سے بے نظیر کا قتل ہوا تب سے تو حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں اور یہ جو جگہ جگہ پر بم رکھے ہوئے ہیں ان سے بہت ڈر لگتا ہے اسی خوف کی بناء پر ڈیوٹی منسوخ کروائی ہے‘۔

ظاہر ہے ہر ایک کے رشتے دار تو وہاں (پولنگ سٹیشن کے قریب) نہیں ہوتے۔ نہ کوئی جاننے والا ہوتا ہے کہ حالات خراب ہونے کی صورت میں وہ فوری طور پر نکل کر کہیں جاسکیں اور دوسرا یہ کہ ان کی ذمہ داری ہے وہ پولنگ سٹیشن سے جا بھی نہیں سکتیں‘۔
نگہت سلطانہ

انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے بھی انہیں الیکشن ڈیوٹی کرنے سے منع کیا تھا اور ان کے افسر بالا اچھے آدمی ہیں اس لیے انہوں نے اس معاملے میں تعاون کیا۔

صدر پرویز مشرف کی مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت کے حامی امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی جائے گی اور ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ دھاندلی کرانے یا روکنے میں انتخابی عملے کا اہم کردار ہوتا ہے تاہم ایک سینئر سرکاری ملازم نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ انتخابی عملے تو دوہرے دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔’عام طور پر پریزائڈنگ افسر کوگن پوائنٹ پر ڈرا دھمکا کر مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ جعلی ووٹ بھگتانے دے اور اگر ایسے میں چھاپہ پڑجائے تو الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے افسران جو جانتے ہیں کہ یہ کسی مجبوری کے تحت ہوا ہوگا وہ اس پریزائیڈنگ افسر کے سر الزام تھوپتے ہیں اور اسے سزا دیتے ہیں‘۔

 ملک کے جو حالات ہیں ان کی وجہ سے ہی زیادہ ڈر ہے اور جب سے بے نظیر کا قتل ہوا تب سے تو حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں اور یہ جو جگہ جگہ پر بم رکھے ہوئے ہیں ان سے بہت ڈر لگتا ہے اسی خوف کی بناء پر ڈیوٹی منسوخ کروائی ہے۔
خاتون استاد

انہوں نے کہا کہ’زیادہ تر کیسز میں پریزائیڈنگ افسر خود دھاندلی نہیں کرواتا بلکہ ایسا ہوتا دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے انتخابات میں کراچی کے این جے وی اسکول کے ایک ٹیچر کو جو پولنگ سٹیشن پر پریزائڈنگ افسر تھے، ایسے ہی الزام کے تحت جیل بھیج دیا گیا جہاں انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ فوت ہوگئے۔’آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے، وہ جو دھاندلی کررہے تھے یا وہ جو سب جانتے تھے لیکن سزا ایک بے گناہ کو دی‘۔

صدر پرویز مشرف یہ کہتے آ رہے ہیں کہ اٹھارہ فروری کو شفاف اور منصفانہ ہی نہیں بلکہ پرامن انتخابات ہوں گے لیکن عام رائے یہی ہے کہ بدامنی کے باعث سیاسی کارکنوں، عام لوگوں اور خود انتخابی عملے میں پایا جانے والا خوف انتخابی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

انتخابی جلسہکوئی بھی جلسہ نہیں
اس بار انتخابی مہم کا خاتمہ لاہور میں نہیں
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
بھٹوانتخاب کہانی
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخابی تاریخ: دوسرا حصہ
ایوب خانانتخاب کہانی
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخابی تاریخ: پہلا حصہ
نواز شریفالیکشن 2008
لاہور میں انتخابی مہم یا پوسٹر مقابلہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد