وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ستر کے انتخابات میں پی پی پی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی اکیاسی نشتیں جیتیں |
انیس سو ستر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات قرار دیا جاتا ہے۔ پچیس مارچ انیس سو انہتر کو جب جنرل یحیٰی خان نے ایوب خان کو ایجی ٹیشن کے نتیجے میں آئین سمیت معزول کر کےون یونٹ توڑ دیا تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول کے تحت اکتوبر انیس سوستر میں انتخابات منعقد ہوں گے جن میں کسی بھی سیاسی جماعت کو حصہ لینے کی آزادی ہوگی۔ جسٹس عبدالستار کی سربراہی میں ایک انتخابی کمیشن تشکیل دیا گیا۔اکیس برس سے زائد عمر کے پانچ کروڑ ستر لاکھ ووٹروں کی فہرستیں بنیں۔لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندی ہوئی اور اٹھائیس سیاسی جماعتوں نے یکم جنوری انیس سو ستر سے تین سو نشستوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے لئے انتخابی مہم شروع کی۔ نئی اسمبلی میں ایک سو باسٹھ نشستیں مشرقی پاکستان کے لئے اور ایک سو اڑتیس مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کے لئے مختص کی گئیں۔ لیکن کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں تھی جس نے ساری نشستوں پر انتخاب لڑا ہو۔عوامی لیگ نے سب سے زیادہ یعنی ایک سو ستر امیدوار کھڑے کئے جن میں سے ایک سو باسٹھ مشرقی پاکستان سے انتخاب لڑ رہے تھے۔عوامی لیگ کے بعد امیدواروں کی تعداد کے حساب سے دوسری بڑی پارٹی جماعتِ اسلامی تھی جس نے قومی اسمبلی کے لئے ایک سو پچپن امیدوار کھڑے کئے۔خان عبد القیوم خان کی مسلم لیگ نے ایک سو تینتیس ، کنونشن مسلم لیگ نے ایک سو چوبیس اورکونسل مسلم لیگ نے ایک سو انیس امیدوار کھڑے کیے۔ جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے ایک سو بیس امیدواروں کو ٹکٹ دیئے۔ جن میں سے ایک سو تین پنجاب اور سندھ میں اور سترہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں تھے۔مشرقی پاکستان سے پیپلز پارٹی کا ایک بھی امیدوار نہیں کھڑا ہوا۔ ا  | | | ستر کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کو ڈالے گئے ووٹوں کا اڑتیس فیصد ملا | امیدوار کھڑے کرنے کے پیٹرن سے اندازہ ہو سکتا تھا کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔ تاہم یحیٰی حکومت کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کا اندازہ تھا کہ انتخاب میں کوئی ایک پارٹی قطعی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔اور زیادہ تر نشستیں قیوم لیگ، جماعتِ اسلامی، پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ میں بٹ جائیں گی اور مخلوط حکومت بنے گی۔جس کے نتیجے میں ہر پارٹی کو صدرِ مملکت کی جانب دیکھنا پڑے گا اور یوں یہ امکان بڑھ جائے گا کہ نئی پارلیمنٹ یحیٰی خان کو منتخب صدر بنا لے۔ لیکن جب نتائج آئے تو اسٹیبلشمنٹ کے اندازے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ قیوم لیگ کو نو اور جماعتِ اسلامی کو صرف چار نشستیں ملیں۔ عوامی لیگ نے چھ نکاتی پروگرام کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کے لئے مخصوص ایک سو باسٹھ میں سے ایک سو ساٹھ اور صوبائی اسمبلی کی تین سو میں سے دو سو اٹھاسی نشستیں جیت لیں۔عوامی لیگ کو ڈالے گئے ووٹوں کا اڑتیس فیصد ملا ۔ تاہم مغربی پاکستان سے عوامی لیگ کو کوئی سیٹ نہیں ملی۔اسی طرح پیپلز پارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی جو اکیاسی نشستیں جیتیں وہ سب کی سب مغربی حصے سے تھیں۔ پیپلز پارٹی کو ڈالے گئے ووٹوں کا ساڑھے انیس فیصد حصہ ملا جبکہ باقی ووٹ دیگر جماعتوں میں بٹ گئے جنہوں نے مجموعی طور پر سینتیس نشتیں حاصل کیں۔سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی اور سرحد اور بلوچستان میں ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی اور مفتی محمود کی جمیعت علمائے اسلام نے قومی اور صوبائی سطح پر دیگر جماعتوں سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔اس کے بعد کے ایک برس میں پاکستان میں کیا ہوا اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انیس سو ستتر انیس سو ستر کے انتخابات کے نتیجے میں مغربی پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل جو پارلیمنٹ وجود میں آئی۔اس نے سب سے اہم کام یہ کیا کہ آئین بنایا اور یہ آئین چودہ اگست انیس سو تہتر سے نافذ ہوگیا۔ایک دن بعد ایمرجنسی لگا دی گئی اور بنیادی حقوق معطل کردیئے گئے۔اس پارلیمنٹ کی پانچ سالہ مدت دسمبر انیس سو ستتر تک تھی تاہم وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو انٹیلی جینس ایجنسیوں اور انکے چند قریبی رفقا نے مشورہ دیا کہ حالات قبل از وقت انتخابات کے لئے سازگار ہیں کیونکہ حزبِ اختلاف انتشار میں مبتلا ہے۔ چنانچہ وزیرِ اعظم نے سات جنوری انیس سو ستتر کو اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات سات مارچ کو اور صوبائی اسمبلیوں کے دس مارچ کو ہوں گے۔اس اعلان کے چار روز بعد جب یہ خبر آئی کہ حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد بنا لیا ہے تو حکومت ششدر رہ گئی۔قومی اتحاد نے بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف بطور احتجاج صوبے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔حکمراں پیپلز پارٹی کے انیس امیدوار بشمول وزیرِ اعظم بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے۔لیکن یہ سب جن حالات میں منتخب ہوئے اس سے بھٹو حکومت کے بارے میں کوئی بہتر سیاسی تاثر نہیں ابھرا۔  | | | نوابزادہ نصراللہ خان کی پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی سمیت حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں نے ستتر کے انتخابات میں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا | سات مارچ کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور جب نتائج آنے شروع ہوئے تو سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے کسی کو بھی یقین نہ آیا۔پیپلز پارٹی نے ایک سو پچپن نشستیں جیت لیں جن میں بلوچستان کی ساتوں نشستیں بھی شامل تھیں حالانکہ وہاں فوجی آپریشن جاری تھا۔جبکہ پاکستان نیشنل الائنس یا پی این اے کو چھتیس نشستیں ملیں۔سرکاری طور پر کہا گیا کہ ٹرن آؤٹ تریسٹھ فیصد رھا اور کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے اٹھاون فیصد ووٹ پیپلز پارٹی کو پڑے۔ ان حالات میں پی این اے نے دس مارچ کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اور شہروں میں حکومت کے خلاف بھرپور تحریک شروع ہوگئی۔خاصی خونریزی کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں پی این اے اور بھٹو حکومت میں سمجھوتہ ہوگیا کہ آنے والے اکتوبر میں ایک نمائندہ عبوری حکومت کے تحت دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔لیکن پانچ جولائی کی صبح جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا۔ انیس سو ستتر کے انتخابات کے بارے میں اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان ( وسیم سجاد کے والد) نے بعد میں یہ تبصرہ کیا کہ حکمراں جماعت کے امیدواروں نے اپنی مقتدر پوزیشن اور سرکاری مشینری کے اندھا دھند استعمال سے انتخابی عمل کو تباہ کردیا۔ |