لاہور میں انتخابی مہم یا پوسٹر مقابلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور شہر کے در و دیوار پر اگر انتخابی پوسٹر آویزاں نہ ہوں تو قطعاً اس بات کا گمان نہیں ہوتا ہے کہ پنجاب کا دل کہلانے والے اس شہر میں کسی الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ انتخابی سرگرمیوں سے اگر انسانی عنصر خارج کردیا جائے تو سنگ وخشت کا جو منظر پیچھے رہ جاتا ہے وہی آجکل لاہور کا کلیدی منظر ہے۔ امیدوار اپنی انتخابی مہم کے لیے موبائل پر ایس ایم ایس کا سہارا لے رہے ہیں بلکہ کیبل کے ذریعے ٹی وی پر اشتہاری مہم بھی عروج پر ہے۔ بہرحال زندہ دلان لاہور نے اس گئے گزرے ماحول میں بھی رونق کا کچھ نہ کچھ سامان پیدا کر لیا ہے اور گلی کوچوں نیز انتخابی دفاتر میں بڑے سائز کی سکرینوں پر بینظیر بھٹو کی ریکارڈ شدہ تقاریر دکھائی جاتی ہیں۔ پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور جو کبھی پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا تو کبھی مسلم لیگ نواز کا قلعہ کہلایا لیکن سنہ دو ہزار دو ہزار کے انتخابات میں اس شہر سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ قاف نے مساوی نشستیں حاصل کیں۔ لاہور کے انتخابی حلقوں سے کئی نامور اور قد آور سیاست دانوں نے انتخاب لڑا جن میں سابق وزراعظم ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور ملک معراج خالد سمیت کئی دوسرے سیاستدان شامل ہیں۔
سنہ انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے جماعتی انتخابات میں لاہور کی قومی اسمبلی کی نو نشستوں میں سے چھ پاکستان پیپلز پارٹی کے حصہ میں آئیں اور انہیں انتخابات میں بینظیر بھٹو بھی لاہور سے منتخب ہوئیں۔تاہم بینظیر کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں اس نشست پر مسلم لیگ نواز کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کی تحلیل کے بعد ہونے والے انتخابات میں لاہور کے نو حلقوں میں صرف ایک پیپلز پارٹی کو ایک سیٹ ملی اور باقی حلقوں سے مسلم لیگ نواز کامیاب ہوئی اور سنہ انیس سو تنانوے کے انتخابات میں بھی لاہور پیپلز پارٹی کو ایک سیٹ پر کامیابی ہوئی۔ ستانوے کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو لاہور سے کوئی بھی نشست نہ مل سکی۔ دو ہزار دو کے انتخابات کے نتائج کے بعد لاہور کے تیرہ انتخابی حلقوں میں حصہ لینے والی چار بڑے جماعتوں نے مساوی نشستیں لیں اور ان انتخابات میں چار جماعتوں نے تین، تین نشستیں لیں جبکہ ایک نشست پاکستان عوامی تحریک کے چئیرمین ڈاکٹر طاہر القادری کو ملی۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں لاہور سے جو نامور سیاست دان میدان میں ہیں ان میں سابق گورنر پنجاب میاں اظہر، پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر، مسلم لیگ نواز کے جاوید ہاشمی، سابق وزراء ہمایوں اختر خان اور میجر(ر) حبیب اللہ وڑائچ نمایاں ہیں۔
این اے ایک سو انیس لاہور میں ہونے والے انتخابات منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ اس حلقے مسلم لیگ نواز کےصدر شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف مسلم لیگ نواز کی امیدوار ہیں تاہم ان کے مدمقابل مسلم لیگ قاف کے امیدوار طارق بدر الدین بانڈے انتقال کرگئے ہیں اور کی وفات کی وجہ سے انتخابات منسوخ کردیئے ہیں۔اس حلقہ سے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے اور انہوں نے پیپلز پارٹی سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کو شکست دی تھی۔ لاہور کے حلقہ ایک سو بیس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر امیدوار ہیں اور انہوں نے اس مرتبہ اپنا حلقہ تبدیل کیا ہے۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ نواز کے قائد نوازشریف نے کاغذات جمع کرائے تھے لیکن ان کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد اب بیگم کلثوم نواز کے رشتہ دار بلال یاسین مسلم لیگ نواز کے امیدوار ہیں جبکہ مسلم لیگ قاف کی جانب سے کرکٹ بورڈ کے سابق چئیرمین اور پیپلز پارٹی کے رہنما جنرل (ر) توقیرضیاء کے بھائی خواجہ طاہر ضیاء امیدوار ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں اس حلقہ سے اٹارنی جنرل پاکستان ملک قیوم کے بھائی پرویز ملک کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے مدمقابل پیپلز پارٹی الطاف قریشی کو شکست دی تھی لیکن اس مرتبہ ان کو مسلم لیگ نواز نے ٹکٹ نہیں دیا۔ لاہور کے حلقہ ایک سو چوبیس سے سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان مسلم لیگ قاف کے امیدوار ہیں جبکہ اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن امیدوار تھے لیکن سپریم کورٹ بار کے صدر ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے ہیں اب ان کی جگہ ایاز عمران اور مسلم لیگ نواز کے شیخ روحیل اضعر امیدوار ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں اس حلقہ میں اعتزاز احسن کامیاب ہوئے اور دوسرے نمبر پر متحدہ مجلس عمل کے عابد جلالی آئے تھے۔ ہمایوں اختر خان حلقہ ایک سو پچیس سے بھی امیدوار ہیں اور وہ گزشتہ انتخابات میں اس حلقہ سے کامیاب ہوئے تھے۔اس حلقہ میں ان کا مقابلہ مسلم نواز کے سابق رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور پیپلز پارٹی کے نوید چودھری سے ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما جاوید ہاشمی ملتان اور راولپنڈی کے علاوہ لاہور کے حلقہ ایک سو تئیس سے بھی امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیزالرحمن چن کےساتھ ہے ۔گزشتہ انتخابات میں جاوید ہاشمی اس حلقہ سے کامیاب ہوئے تھے۔ سابق وزیر میجر (ر) حبیب اللہ وڑائچ ایک سو انتیس سے مسلم لیگ قاف کے امیدوار ہیں وہ پہلے اس حلقہ سے کامیاب ہو چکے ہیں اور اس مرتبہ ان کا مقابلہ مسلم لیگ نواز کے عادل عمر اور پیپلزپارٹی کےطارق شبیر سے ہے۔ پاک بھارت سرحد واہگہ بارڈر کے علاقے پر محیط انتخابی حلقہ ایک سو تیس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے ثمینہ گھرکی، مسلم لیگ نواز کے سعدیہ صابر اور مسلم لیگ قاف کے عاشق ڈیال امیدوار ہیں ۔اس حلقہ سے ثمینہ گھرکی پہلے بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مختلف زمانوں میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کے زیر اثر رہنے والا یہ شہر اٹھارہ فروری کے بعد کس پارٹی کا قلعہ ثابت ہوتا ہے اور کس جماعت پر اس کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||